60

بھارت میں نسل پرستی کے خلاف اکشے کمار کا دوٹوک مؤقف

نئی دہلی میں بالی ووڈ کے معروف اداکار اکشے کمار نے شمال مشرقی بھارت کے لوگوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نسل پرستی اور امتیازی سلوک کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ایک حالیہ ٹی وی شو کے دوران، ایک کنٹیسٹنٹ نے بتایا کہ ممبئی میں بعض افراد نے اس کے چہرے کے خدوخال کی بنیاد پر اسے ’چین جاؤ‘ اور کووڈ-19 پھیلانے کا الزام بھی دیا۔

اکشے کمار نے کہا کہ شمال مشرقی بھارت کے لوگ بھی اتنے ہی بھارتی ہیں جتنے ہم سب ہیں اور اس طرح کے امتیازی رویے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کے لیے اپنے میک اپ آرٹسٹ کو بھی اسٹیج پر بلایا، جس نے بتایا کہ اسے اکثر ’چائنیز‘، ’چنکی‘ اور ’مومو‘ جیسے توہین آمیز القابات سے پکارا جاتا رہا۔

اداکار نے عوام سے اپیل کی کہ شمال مشرقی بھارت کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے اور انہیں معاشرتی، سماجی اور پیشہ ورانہ سطح پر مساوی حقوق دیے جائیں۔ اکشے کمار کا یہ پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے اور صارفین نے ان کے موقف کو سراہا، اسے بھارت میں یکجہتی اور مساوات کی طرف اہم قدم قرار دیا۔

یہ خبر نہ صرف امتیازی رویے کے خلاف شعور اجاگر کرتی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور یکجہتی کا پیغام بھی دیتی ہے۔