پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے نئے دور کا آغاز قریب آ گیا۔ ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی 10 مارچ کو کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، جسے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے چیئرمین حفیظ الرحمان کا کہنا ہے کہ عوام بہتر انٹرنیٹ اور تیز رفتار کنیکٹیویٹی چاہتے ہیں، اور فائیو جی آکشن کے بعد سروس کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ان کے مطابق بہتر کنیکٹیویٹی کے بغیر ڈیجیٹل پاکستان کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔
حکام کے مطابق حکومت نے نیلامی کے لیے 597 میگاہرٹس اسپیکٹرم مہیا کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 101 ممالک فائیو جی سروس لانچ کر چکے ہیں اور اب پاکستان بھی اس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہونے جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مارکیٹ میں تقریباً 40 ہزار روپے تک کے فائیو جی موبائل فون دستیاب ہیں جبکہ کمپنیاں قسطوں پر اسمارٹ فون فراہم کرنے کی سہولت بھی متعارف کروا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملک کے 97 فیصد موبائل ٹاور فور جی پر کام کر رہے ہیں، تاہم دیہی علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کنیکٹیویٹی کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے اسپیکٹرم کے بعد انٹرنیٹ کی رفتار اور کوالٹی آف سروس میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
اب سب کی نظریں 10 مارچ پر مرکوز ہیں، جب فیصلہ ہوگا کہ پاکستان میں فائیو جی کا باقاعدہ آغاز کب اور کیسے ہوگا۔








