89

کینسر کی روک تھام ممکن: ڈبلیو ایچ او کی نئی عالمی تحقیق میں انکشاف

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی نئی تحقیق کے مطابق اگر لوگ تمباکو نوشی، شراب نوشی، فضائی آلودگی اور بعض انفیکشنز جیسے خطرناک عوامل سے گریز کریں تو کینسر کے ہر 10 میں سے تقریباً 4 کیسز کی روک تھام ممکن ہے۔

2022 میں دنیا بھر میں سامنے آنے والے 71 لاکھ نئے کینسر کیسز ایسے اسباب سے منسلک تھے جن سے بچاؤ ممکن تھا۔ تحقیق کے مطابق:

تمباکو نوشی کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے اور تمام نئے کیسز کے 15 فیصد کا سبب بنی۔

کینسر پیدا کرنے والے انفیکشنز 10 فیصد کیسز میں مرض کی بنیادی وجہ بنے۔

شراب نوشی 3 فیصد کیسز کی وجہ بنی، جبکہ موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، الٹرا وائلٹ شعاعیں اور کام کے دوران مضر مادوں کا سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونا دیگر عوامل ہیں۔

مطالعے کے مطابق قابلِ روک تھام کیسز میں سے نصف پھیپھڑوں، معدے اور سروائیکل کینسر کے تھے۔ پھیپھڑوں کے کینسر کا تعلق زیادہ تر تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی سے پایا گیا، معدے کے کینسر کی بڑی وجہ ہیلیکوبیکٹر پائلوری بیکٹیریا اور سروائیکل کینسر کے زیادہ تر کیسز HPV وائرس کے باعث ہوئے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ مردوں میں قابلِ روک تھام کینسر خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے، جہاں مردوں میں 45 فیصد جبکہ خواتین میں 30 فیصد نئے کیسز بچاؤ کے قابل تھے۔

ڈبلیو ایچ او کے محققین نے زور دیا ہے کہ تمباکو پر کنٹرول، شراب نوشی کے ضوابط، HPV ویکسین، صاف ہوا، محفوظ کام کی جگہیں، صحت مند خوراک اور ورزش کے ذریعے کینسر کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔