آج کے دور میں نیند کی نگرانی کے لیے سمارٹ واچز، اسمارٹ رنگز اور موبائل ایپس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ڈیوائسز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مکمل طور پر درست نہیں ہوتا اور اسے احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ آلات براہِ راست نیند کو نہیں ناپتے بلکہ دل کی دھڑکن اور جسمانی حرکات کی بنیاد پر اندازے لگاتے ہیں۔ اسی وجہ سے نیند کے معیار اور مراحل سے متعلق ان کی درستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایپل واچ، فٹ بِٹ اور اورا رنگ جیسے ٹریکرز حرکت اور ہارٹ ریٹ کو ریکارڈ کر کے نیند کے دورانیے اور مختلف مراحل کا تخمینہ لگاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ڈیوائسز نیند کے شروع اور ختم ہونے کے وقت کے تعین میں کافی حد تک درست ثابت ہوئی ہیں، تاہم گہری نیند اور ریپڈ آئی موومنٹ جیسے حساس مراحل کی پیمائش ابھی تک مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں سمجھی جاتی۔
نیورولوجی کے ماہر ڈاکٹر شینٹائل برانسون کے مطابق کئی صارفین نیند کے تفصیلی اسکورز پر حد سے زیادہ توجہ دینے لگتے ہیں، جس کے باعث وہ نیند کی اصل بہتری کے بجائے نمبروں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتر نیند کے لیے سب سے اہم چیز نیند کی صحت مند عادات ہیں، جن میں بروقت سونا، سونے سے قبل اسکرین کے استعمال سے گریز اور پرسکون ماحول شامل ہے۔
کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ نیند ٹریکنگ ڈیوائسز نے انہیں بہتر معمولات اپنانے میں مدد دی، جبکہ بعض افراد کے لیے یہی اسکورز ذہنی دباؤ اور بے چینی کا سبب بن گئے۔ ماہرین کے مطابق اگر نیند سے متعلق ڈیٹا پریشانی پیدا کرے تو خود تشخیص کے بجائے پیشہ ورانہ مشورہ لینا زیادہ مناسب ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی جدید ٹیکنالوجی سامنے آ سکتی ہے جو صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی میں مدد دے، تاہم موجودہ سمارٹ ڈیوائسز کے نتائج کو کلینیکل نیند لیبارٹری کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔








