48

علی ظفر کے ہتک عزت کیس میں لاہور ہائی کورٹ کی اہم فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے منگل کے روز گلوکار علی ظفر کی جانب سے اداکارہ اور گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے میں اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو 30 دن کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس احمد ندیم ارشد نے میشا شفیع کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کے اختتام تک عوامی بیانات پر پابندی قانونی اور جائز ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ آزادی اظہار بنیادی حق ہے، لیکن منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانے کے لیے عدلیہ ایسے معاملات میں احتیاط برتتی ہے۔

میشا شفیع کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہتک عزت کے مقدمات میں حکمِ امتناع عائد نہیں ہونا چاہیے، تاہم عدالت نے یہ دلیل مسترد کر دی۔

واضح رہے کہ علی ظفر نے 2018 میں میشا شفیع کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں انہوں نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے پر ہرجانے کا دعویٰ کیا۔ اس مقدمے کے سلسلے میں علی ظفر نے ایک ارب روپے ہرجانہ اور غیر مشروط معافی کا مطالبہ بھی عدالت سے کیا ہے۔

ٹرائل کورٹ نے 24 جنوری 2019 کو ابتدائی طور پر پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد میشا شفیع نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، لیکن اب عدالت نے یہ اپیل مسترد کر دی ہے۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد کیس کی رفتار تیز ہونے کی توقع ہے اور 30 دن کے اندر حتمی فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے۔