42

ماہرین نے ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ کا نسخہ بتا دیا

خون کے دباؤ یا بلڈ پریشر سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ شریانوں کے ذریعے خون کس دباؤ کے ساتھ گردش کر رہا ہے، جبکہ ہائی بلڈ پریشر اس وقت لاحق ہوتا ہے جب یہ دباؤ مسلسل معمول سے زیادہ رہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل مرض کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر افراد کو اس کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی، جس کے نتیجے میں دل کے امراض، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرناک مسائل کا خدشہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

یہ مرض پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کر رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش کے ذریعے اس مرض کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

اسی حوالے سے کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جوانی میں جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانا درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ کے لیے نہایت اہم ہے۔

تحقیق میں 5 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن کی صحت کا جائزہ تقریباً تین دہائیوں تک لیا گیا۔ اس دوران شرکاء کی ورزش، تمباکو نوشی اور دیگر طرزِ زندگی کی عادات کا ریکارڈ سوالناموں کے ذریعے مرتب کیا گیا، جبکہ ہر طبی معائنے کے دوران بلڈ پریشر تین مرتبہ چیک کیا جاتا رہا۔

تحقیق میں انکشاف ہوا کہ 18 سے 40 سال کی عمر کے دوران جسمانی سرگرمیوں میں بتدریج کمی آتی ہے، جس کے ساتھ ہی بلڈ پریشر کی سطح میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

محققین کے مطابق وہ افراد جو جوانی میں ہر ہفتے کم از کم 5 گھنٹے معتدل شدت کی ورزش کو معمول بناتے ہیں، ان میں درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ اگر یہ عادت 60 سال کی عمر تک برقرار رکھی جائے تو خطرہ مزید کم ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے نتائج امریکن جرنل آف پریوینٹیو میڈیسن میں شائع کیے گئے۔

ادھر امریکا کے معروف طبی ادارے مایو کلینک کے مطابق ہر فرد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ایروبک ورزش یا 75 منٹ سخت ورزش کو معمول بنانا چاہیے، جبکہ زیادہ تر دنوں میں 30 منٹ کی جسمانی سرگرمی بہترین نتائج دیتی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق رقص، سائیکل چلانا، تیراکی، جاگنگ، چہل قدمی، باغبانی اور سیڑھیاں چڑھنا مؤثر ایروبک سرگرمیاں ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کے باقاعدہ آغاز کے ایک سے تین ماہ کے اندر بلڈ پریشر پر مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، تاہم یہ فوائد اسی وقت تک برقرار رہتے ہیں جب تک ورزش کو جاری رکھا جائے۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ جسمانی سرگرمی وزن کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے اور اگر کوئی فرد موٹاپے کا شکار ہو تو صرف 2.3 کلوگرام وزن میں کمی سے بھی بلڈ پریشر میں واضح کمی آ سکتی ہے۔