96

کیا آپ زیادہ چائے پینے کے یہ نقصانات جانتے ہیں؟

چائے ہمارے روزمرہ معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ صبح کی شروعات ہو یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ، ایک کپ چائے اکثر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ چائے نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چائے میں موجود کیفین وقتی توانائی تو فراہم کرتی ہے، مگر زیادہ مقدار میں یہ بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے، سر درد اور چکر آنے کا باعث بن سکتی ہے۔ شام یا رات کے وقت چائے پینے کی عادت نیند کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے بے خوابی اور بار بار آنکھ کھلنے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

زیادہ چائے پینے سے معدے میں تیزابیت، جلن اور بدہضمی کے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر خالی پیٹ چائے پینا خطرناک ہے۔ اس کے علاوہ چائے میں موجود ٹیننز آئرن کے جذب میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، جس سے خواتین اور کمزور افراد میں خون کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ زیادہ کیفین لینے سے جسم سے کیلشیم کا اخراج بڑھ سکتا ہے، جو ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں چائے کے مسلسل استعمال سے دانتوں پر داغ پڑ سکتے ہیں اور بہت گرم چائے مسوڑھوں کو حساس بنا سکتی ہے۔

روزانہ چائے کی مناسب مقدار دو سے تین کپ سمجھی جاتی ہے۔ اعتدال کے ساتھ چائے نوشی، خالی پیٹ سے پرہیز، رات کے وقت کیفین والی چائے سے اجتناب، اور دودھ و چینی کی کم مقدار صحت کے لیے بہترین ہے۔ ہربل یا سبز چائے کو کبھی کبھار متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چائے اگر اعتدال میں پی جائے تو یہ تازگی اور لطف کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن حد سے زیادہ استعمال نیند کی خرابی، معدے کے مسائل، آئرن کی کمی اور بے چینی جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ چائے نوشی میں توازن رکھنا ہی صحت کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔