حکومتِ پاکستان ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے موبائل فونز لیزنگ پالیسی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد 5جی اسمارٹ فونز کی عام دستیابی کو یقینی بنانا ہے تاکہ آئندہ شروع ہونے والی 5جی سروسز سے زیادہ سے زیادہ صارفین فائدہ اٹھا سکیں۔
وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت 5جی اسمارٹ فونز کو آسان اقساط پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں 5جی ہینڈسیٹس کی تعداد محدود ہے، جس کے باعث صارفین کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کا منصوبہ ہے کہ موبائل فونز کی لیزنگ کے ذریعے خاص طور پر بڑے شہروں میں 5جی نیٹ ورک کے آغاز سے قبل صارفین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی نے پالیسی کا ابتدائی مسودہ موبائل فون آپریٹرز کے ساتھ شیئر کر دیا ہے، جبکہ دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل بھی جاری ہے تاکہ فنانسنگ کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ادھر وزارتِ آئی ٹی درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکس میں کمی کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے، جس سے موبائل فونز کی قیمتیں کم ہونے اور عوام کو مزید سہولت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا مؤقف ہے کہ ملک میں موبائل فونز کی زیادہ تر طلب مقامی پیداوار سے پوری ہو رہی ہے، اس لیے اس تجویز پر حتمی فیصلہ مزید غور کے بعد کیا جائے گا۔
حکومتی حکام کے مطابق موبائل فون لیزنگ پالیسی سے نہ صرف ڈیجیٹل ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ عام صارفین کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا حصول بھی آسان ہو جائے گا، جبکہ پالیسی کے حتمی اعلان کی توقع جلد کی جا رہی ہے۔








