58

سردیوں میں جوڑوں کے درد سے بچاؤ کے لیے ماہرین کی رہنمائی

سردیوں کا موسم جہاں خوشگوار احساس دلاتا ہے، وہیں بہت سے افراد کے لیے جوڑوں کے درد اور اکڑاؤ کا سبب بھی بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مشکل وقت ہوتا ہے جو گٹھیا، لوپس یا فائبرومائیلجیا جیسے امراض میں مبتلا ہیں۔ سردی کے اثرات نہ صرف جوڑ سخت کرتے ہیں بلکہ درد میں بھی واضح اضافہ کر دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق سردیوں میں ہوا کے دباؤ میں تبدیلی پٹھوں، نسوں اور اردگرد کے ٹشوز میں سوجن پیدا کر سکتی ہے، جس سے جوڑوں میں اکڑاؤ اور تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ خون کی نالیوں کا سکڑنا اور Synovial Fluid کا گاڑھا ہونا بھی حرکت کو مشکل اور تکلیف دہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں سردیوں میں جسمانی سرگرمی کم ہونے سے پٹھے کمزور اور کارٹلیج متاثر ہوتی ہے، جس سے عمر رسیدہ افراد اور وہ لوگ جو ذیابیطس یا تھائیرائیڈ میں مبتلا ہیں، مزید جوڑوں کے درد کے شکار ہو جاتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے لیے بھی وارم اپ اور کول ڈاؤن کو نظر انداز کرنا سردیوں میں انجری اور درد کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں جوڑوں کی حفاظت کے لیے معمولی احتیاط بہت موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ نیم گرم شاور یا متاثرہ حصے پر گرم پانی کی پٹّی اکڑاؤ کو کم کرنے میں مددگار ہے، اور ہلکی پھلکی ورزشیں جوڑوں کو لچکدار رکھتی ہیں۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، وٹامن ڈی اور مناسب پانی کی مقدار جوڑوں کی صحت کے لیے اہم ہے۔ علاوہ ازیں جوڑوں کو ٹھنڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے گرم کپڑے پہننا، خاص طور پر گھٹنے، کہنیاں اور کلائیاں ڈھانپنا اور درست پوسچر اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ اضافی دباؤ کم ہو۔

ماہرین نے زور دیا کہ جسم کے اشاروں کو نظر انداز نہ کیا جائے، اور اگر درد یا سوجن غیر معمولی ہو تو متاثرہ حصے کو آرام دیا جائے اور گرمی کا استعمال کیا جائے۔ تھوڑی سی احتیاط اور معمولات میں چھوٹی تبدیلیاں سردیوں میں جوڑوں کے درد اور اکڑاؤ کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہیں، جس سے سرد موسم بھی زیادہ آرام دہ محسوس ہوتا ہے۔