178

ملک میں سپر فلو کے کیسز میں اضافہ، علامات بھی سامنے آ گئیں

پاکستان کے 20فیصد نمونوں میں وائرس کی نئی قسم’سب کلاڈ K‘کاانکشاف:ذرائع برطانیہ میں روزانہ 2600مریض ،آئرلینڈ میں بھی وارڈز بھر چکے ،تعلیمی ادارے بند رواں سال فلو کی سرگرمی غیر معمولی طور پر جلدی اور شدت سے سامنے آئی :ڈبلیوایچ او برڈفلو کیسز بھی ریکارڈ ،انسانوں میں منتقلی کے شواہد نہیں ملے :یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی

لندن،اسلام آباد(رائٹرز ، اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کے کئی حصوں، خصوصاً یورپ اور ایشیا میں فلو کی ایک نئی اور خطرناک لہر پھیل رہی ہے ، جو دراصل H3N2 وائرس کی ایک تبدیل شدہ (mutated) قسم ہے ، پاکستان میں بھی اس انفلوئنزا کی موجودگی کا انکشاف ہواہے ، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ 20 فیصد نمونوں میں وائرس کی نئی قسم کے ذیلی گروپ ‘سب کلاڈ K’ کی موجودگی پائی گئی۔ طبی ماہر ین کاکہنا ہے سپر فلو وائرس کی علامات بھی دیگر انفلوئنزا کی طرح ہی ہوتی ہیں یعنی سر میں درد، نزلہ، بخار جیسی علامات ہوتی ہیں۔ اس وائرس کو سپر فلو اس کے لیے کہہ رہے ہیں کہ پوری دنیا میں جو متوقع تعداد ہوتی ہے اس سے زیادہ تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وائرس میں بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے بچاؤ کے طریقے بھی وہی ہیں جو بچاؤ کے طریقے ہوتے ہیں، بچوں اور بڑی عمر کے افراد کو احتیاطی ویکسین لگوائی جائیں، کئی مغربی ممالک میں فلو کی ویکسین بچوں اور بڑی عمر کے افراد کے ساتھ نوجوانوں کو بھی لگائی جاتی ہیں، جن افراد کو اس قسم کی علامات ہیں تو کوشش کریں کہ وہ بچہ سکول نہ جائے یا وہ افراد دفتر نہ جائیں تاکہ دیگر افراد محفوظ رہ سکیں، اگر کسی کو فلو ہے تو اس سے ہاتھ ملانے سے اجتنات کیا جائے اور ملاقات کم کی جائے ۔ برطانوی محکمہ صحت کے مطابق ہسپتالوں میں روزانہ اوسطاً 2600 سے زائد مریض داخل ہو رہے ہیں، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے ۔ برطانوی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کوویڈ کے بعد ہسپتالوں پر سب سے بڑا دباؤ ہے ۔

ماہرین کے مطابق یہ کوئی بالکل نیا وائرس نہیں بلکہ فلو کے موجودہ وائرس کی ایک نئی ذیلی شکل (K-subclade) ہے جو پچھلی ویکسین یا سابقہ مدافعت سے کسی حد تک بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ عالمی ادارئہ صحت (WHO) کے مطابق اس سال فلو کی سرگرمی غیر معمولی طور پر جلدی اور شدت سے سامنے آئی ہے ۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگرچہ وائرس میں جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، لیکن اب تک اس کے نتیجے میں بیماری کی شدت میں اضافہ ثابت نہیں ہوا۔ برطانیہ اور آئرلینڈ میں ہسپتالوں نے فلو کے مریضوں کی غیر معمولی آمد پر ایمرجنسی الرٹ جاری کردیا ہے ۔ کئی علاقوں میں ہسپتالوں کے وارڈز بھر چکے ہیں اور بعض تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا ہے ۔

دوسری جانب یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی (EFSA) کے مطابق براعظم میں پرندوں کی فلو (H5N1) کے کیسز بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ کچھ جانور متاثر ہوئے ہیں لیکن انسانوں میں اس وائرس کی منتقلی انتہائی نایاب ہے اور ابھی تک اس کے انسان سے انسان میں پھیلنے کے شواہد نہیں ملے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ‘‘سپر فلو’’ دراصل ایک شدید موسمی وبا ہے ، لیکن اس کے پھیلاؤ نے ایک بار پھر فلو وائرس کی تبدیلیوں اور پرندوں کی فلو کے خطرات پر عالمی نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کردیا ہے ۔ یورپی اور ایشیائی ممالک نے شہریوں کو فلو ویکسین لگوانے ، رش والی جگہوں پر ماسک پہننے اور بیماری کی صورت میں گھروں پر رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ سردیوں کے موسم میں اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے ۔