50

سپر فلو کی ممکنہ لہر، ڈبلیو ایچ او نے دنیا بھر کو الرٹ کر دیا

 عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں سامنے آنے والی فلو کی نئی قسم ’’سپر فلو‘‘ سے خبردار کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق یورپی ممالک میں انفلوئنزا کے کیسز میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے جس کے باعث صحت کے نظام پر دباؤ بڑھنے لگا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اگرچہ فلو کی نئی قسم زیادہ مہلک نہیں، تاہم اس کا پھیلاؤ معمول سے پہلے شروع ہونا تشویش ناک ہے۔ برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک میں انفلوئنزا کے کیسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیر صحت کے مطابق ملک بھر کے اسپتالوں میں روزانہ اوسطاً 2 ہزار 600 سے زائد مریض داخل ہو رہے ہیں، جو کورونا وبا کے بعد صحت کے نظام پر سب سے بڑا دباؤ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سپر فلو سے بچے اور بزرگ زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حکام نے عوام کو ماسک کے استعمال، ہاتھوں کی صفائی اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک کو انفلوئنزا کے پھیلاؤ پر مسلسل نظر رکھنے اور ہنگامی تیاریوں کو مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ صحت کے نظام پر دباؤ کم رکھا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق فلو کی یہ نئی قسم زیادہ خطرناک نہیں اور اس کا علاج بھی ممکن ہے، تاہم چونکہ عوام کو اس وائرس سے پہلے کم واسطہ پڑا ہے اس لیے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔