151

انرجی ڈرنکس سے متعلق ماہرین صحت نے سخت وارننگ جاری کر دی

لندن: برطانیہ میں ایک 50 سالہ شخص کے لگاتار 8 انرجی ڈرنکس روزانہ پینے کے بعد اسٹروک کا شکار ہونے کے انکشاف نے طبی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ کولڈ ڈرنکس، بالخصوص انرجی ڈرنکس، دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص کی علامات میں اچانک بائیں حصے کا سن ہونا، توازن بگڑ جانا، بولنے اور نگلنے میں دشواری شامل تھی۔ اسپتال میں معائنہ کے دوران معلوم ہوا کہ مریض کے دماغ کے اُس حصے میں اسٹروک ہوا جو حرکت اور حسّی افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ مریض کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک 150/254 mm Hg ریکارڈ کیا گیا۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ وہ روزانہ تقریباً 1,280 mg کیفین استعمال کر رہا تھا جو عالمی صحت کے معیار کے مطابق مقرر کردہ 400 mg کی حد سے تین گنا زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انرجی ڈرنکس میں موجود کیفین اور دیگر اجزا دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک بڑھا دیتے ہیں۔ ڈاکٹر مارٹھا کوائل اور ڈاکٹر سنیل منشی کے مطابق نوجوان نسل میں انرجی ڈرنکس کے بے دریغ استعمال پر فوری پابندیاں اور آگاہی مہم ضروری ہے تاکہ دل کے امراض اور اسٹروک کے بڑھتے ہوئے خطرات پر قابو پایا جا سکے۔

طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ توانائی بڑھانے کے لیے صحت مند غذا، مناسب نیند اور پانی کا استعمال انرجی ڈرنکس کا بہتر متبادل ہیں۔