124

گاڑی میں دو دن سے پڑا پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے

سفر کے دوران لوگ اکثر گاڑی میں پانی کی بوتلیں ساتھ رکھتے ہیں، لیکن اگر یہ بوتلیں دو دن یا اس سے زیادہ وقت تک گاڑی میں رہ جائیں تو پانی پینا محفوظ نہیں رہتا۔

ماہرین کے مطابق، گاڑی میں پڑی پلاسٹک کی بوتل میں پانی بیکٹیریا کی افزائش کے لیے موزوں جگہ بن سکتی ہے۔ اس سے ای کولی اور سیوڈوموناس ایرگینوسا جیسے جراثیم پیدا ہو سکتے ہیں جو پیٹ کی خرابی، دست، قے، بخار اور فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتے ہیں۔

گرمی اور سورج کی روشنی پانی کے ذائقے اور معیار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ طویل مدت تک گرمی میں پڑی بوتلوں سے پانی اور پلاسٹک کے درمیان کیمیائی ردعمل بھی ہو سکتا ہے، جس سے پانی میں بدبو یا ذائقہ خراب ہو سکتا ہے۔

ماحولیاتی اور سیکیورٹی پہلو سے بھی پلاسٹک کی بوتلوں کا دوبارہ استعمال خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ بیکٹیریا پھیل سکتے ہیں اور سورج کی شدت سے آگ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر پانی کی بوتل دو دن تک گاڑی میں پڑی رہی ہو تو اسے پینے سے گریز کریں اور تازہ پانی استعمال کریں۔ دوبارہ استعمال کی صورت میں بوتل کو اچھی طرح دھو کر صاف رکھنا ضروری ہے۔