46

مثانے کے کینسر کے علاج میں نئی ​​امید جاگ اٹھی

تازہ ترین تحقیق کے مطابق ایک تجرباتی غیر جراحی علاج نے مثانے کے کینسر کی سب سے عام قسم کے خلاف مضبوط نتائج پیش کیے ہیں۔

مثانے کے کینسر کی اس قسم کا علاج مشکل سمجھا جاتا تھا اور اکثر مریضوں کے لیے مثانہ نکالنا واحد حل ہوتا تھا۔ تاہم، ’انلیکسو‘ نامی یہ تجرباتی تھراپی ممکنہ طور پر سرجری کا ایک مؤثر متبادل پیش کرتی ہے۔

اب تک کیے گئے تجربات میں یہ علاج 82 فیصد مریضوں میں کینسر کی رسولیوں کو ختم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

تحقیق کی سربراہ سیا دانشمند کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس قسم کے مریضوں کے پاس علاج کے محدود اختیارات تھے، لیکن یہ نئی تھراپی اب تک کا سب سے مؤثر علاج ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوا جتنی زیادہ مدت کے لیے مثانے میں رہے گی، اتنی زیادہ مقدار میں ٹشوز میں جذب ہوگی اور کینسر کی رسولیاں ختم ہوں گی۔