71

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق: چیٹ جی پی ٹی اب بھی فراہم کرتا ہے فرضی معلومات

امریکی تعلیمی ادارے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی مشہور چیٹ بوٹ ہے، سالوں کی اپ گریڈز اور تربیت کے باوجود بعض اوقات غلط یا فرضی معلومات فراہم کرتا ہے۔

تحقیق کے اہم نکات:

  • جب چیٹ بوٹ کسی سوال کا درست جواب نہیں جانتا، تو یہ قیاس آرائی پر مبنی جواب دیتا ہے، جسے ماہرین "خیالی معلومات" کہتے ہیں۔

  • مسئلے کی بنیادی وجہ ماڈل کی تربیت کا نظام ہے، جس میں اسے ہر سوال کا جواب دینے پر مجبور کیا جاتا ہے، چاہے جواب مکمل درست نہ ہو۔

  • تربیتی مواد میں موجود نامکمل یا غیر مصدقہ معلومات اس رجحان کو مزید بڑھاتی ہیں، جس سے مصنوعی ذہانت کی درستگی پر سوال اٹھتا ہے۔

ماہرین کی سفارشات:

  • مستقبل میں ایسے ماڈلز کو غلط جواب دینے سے روکنا اور نہ جاننے کی صورت میں اعتراف کرنے کی تربیت دی جائے۔

  • اس طرح چیٹ بوٹ زیادہ ذمہ دار اور قابل اعتماد ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نتائج پر مکمل اعتماد کرنا ابھی بھی دانشمندی نہیں، اور انسانی تصدیق ضروری ہے۔