گھروں میں استعمال ہونے والے آلو اکثر چند دنوں بعد چھوٹے سفید دانوں یا کونپلوں کے ساتھ اُگنے لگتے ہیں، مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے آلو کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اُگنے والے آلو میں دو کیمیائی مرکبات "سولانین" اور "چاکونین" پیدا ہو جاتے ہیں جو قدرتی طور پر آلو کو نقصان دہ جراثیم سے محفوظ رکھتے ہیں۔ لیکن جب یہ مرکبات زیادہ ہو جائیں تو متلی، پیٹ درد، اسہال، سردرد، بخار، دھڑکن کی تیزی، بلڈ پریشر میں کمی اور اعصابی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
کیوں خطرناک ہیں جڑ والے آلو؟
-
زہریلے مادے میں اضافہ: آلو کی جڑیں، کونپلیں اور سبز حصے زیادہ زہریلے مرکبات رکھتے ہیں۔
-
ناگوار ذائقہ: اُگے ہوئے آلو اکثر کڑوے ذائقے کے حامل ہوتے ہیں۔
-
غذائیت میں کمی: کونپلوں کی نشوونما آلو کے وٹامنز اور معدنیات کو کم کر دیتی ہے۔
ماہرین کی ہدایات:
-
اُگی ہوئی کونپلیں اور سبز حصے مکمل طور پر کاٹیں۔
-
تلنا کچھ حد تک خطرہ کم کر سکتا ہے، مگر ابالنے یا مائیکروویو کرنے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
-
اگر آلو زیادہ سبز یا نرم ہو جائے تو اسے فوراً ضائع کر دیں۔
آلو کو محفوظ رکھنے کے طریقے:
-
آلو کو ٹھنڈی، خشک اور اندھیری جگہ پر رکھیں۔
-
زیادہ مقدار میں ذخیرہ نہ کریں، صرف اتنے آلو خریدیں جو ایک یا دو ہفتے میں استعمال ہو جائیں۔
-
خریدنے کے بعد انہیں جلد استعمال کریں تاکہ کونپلیں نہ نکلیں۔
ماہرین زور دیتے ہیں کہ صحت پر سمجھوتا نہ کریں اور اُگے ہوئے یا سبز آلو کھانے سے پرہیز کریں۔









