عالمی شہرت یافتہ امریکی حیاتیات دان (بایولوجسٹ) جیمز ڈی واٹسن 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے ڈی این اے کی ڈبل ہیلکس ساخت دریافت کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں اے پی اور پیپل میگزین کے مطابق، جیمز واٹسن کا انتقال نیویارک میں ہوا۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے علیل تھے۔
جیمز واٹسن نے 1953 میں فرانسِس کرک اور موریس ولکنز کے ساتھ مل کر ڈی این اے کی ڈبل ہیلکس ساخت کی دریافت کی، جو حیاتیاتی وراثت کی سمجھ بوجھ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔
اس انقلابی دریافت کے اعتراف میں، 1962 میں واٹسن، کرک اور ولکنز کو نوبل انعام برائے طب سے نوازا گیا۔
واٹسن کی یہ دریافت جینیات، طب اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک نئے دور کا آغاز بنی۔ وہ ہیومن جینوم پروجیکٹ کے بانی اراکین میں بھی شامل رہے، جس نے انسانی ڈی این اے کے مکمل نقشے کو سمجھنے کی بنیاد فراہم کی۔
سائنس دانوں اور ماہرین نے جیمز واٹسن کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں جدید حیاتیات کا ایک عہد ساز محقق قرار دیا ہے۔








