195

117 سال تک زندہ رہنے والی خاتون کا راز: مہنگی نہیں، عام غذا

اگر آپ روزانہ دہی کھانا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت لمبی اور صحت مند زندگی کے حصول کی کنجی ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکی نژاد ہسپانوی خاتون ماریا برینیاس موریرا پر کی جانے والی تحقیق میں سامنے آیا۔

ماریا برینیاس موریرا کو اگست 2024 میں 117 سال کی عمر میں وفات سے قبل دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز حاصل تھا۔

اسپین کی بارسلونا یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ماریا برینیاس کی زندگی کے دوران ان پر تحقیق کرکے طویل زندگی کے راز جاننے کی کوشش کی تھی۔

تحقیق کے لیے 116 کی عمر میں ان کے خون، پیشاب اور لعاب دہن کے نمونے لیے گئے اور ان کا موازنہ ماریہ برینیاس کی 80 سال بیٹی کے نمونوں سے کیا گیا۔

وہ صحت کے لیے مفید غذاؤں بالخصوص دہی کھانا پسند کرتی تھیں، درحقیقت دن میں 3 بار اسے کھاتی تھیں۔

اب تحقیق میں بتایا گیا کہ جینیاتی عناصر سے ہٹ کر دہی کھانے کی عادت نے ان کی طویل العمری میں اہم کردار ادا کیا۔

ماریہ برینیاس 4 مارچ 1907 کو امریکا میں پیدا ہوئیں تاہم 8 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ہمراہ اسپین منتقل ہوگئی تھیں۔

وہ قسمت اور اچھے جینز کو اپنی لمبی عمر کا راز قرار دیتی تھیں، محققین نے بھی اسے درست قرار دیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ماریہ برینیاس کی حیاتیاتی عمر جسمانی عمر سے 23 سے کم تھی۔

خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔

جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

محققین نے بتایا کہ دہی کے ساتھ ساتھ ماریہ برینیاس کی جانب سے روزانہ کافی مقدار میں غذائی فائبر کو جزوبدن بنایا جاتا تھا، جو معدے میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹیریا کی غذا ثابت ہوتا اور ان کی نشوونما بڑھ جاتی۔

انہوں نے بتایا کہ خاتون کی غذا میں شامل پری بائیوٹیکس اور پرو بائیوٹیکس سے معدے میں صحت کے لیے بہت زیادہ مفید بیکٹیریا کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور حیاتیاتی عمر میں ڈرامائی کمی آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ غذا ایک اچھی مثال ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اچھی عادات کس طرح صحت مند بڑھاپے اور طویل العمری کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

ماریہ برینیاس کی زندگی آسان نہیں تھی بلکہ وہ ماضی میں زلزلے، آتشزدگی، پہلی اور دوسری جنگ عظیم، اسپین میں ہونے والی خانہ جنگی، اسپینش فلو کی وبا اور کووڈ کی وبا سے بچنے میں کامیاب رہیں۔

محققین کے مطابق ماریہ برینیاس نے صحت مند طرز زندگی کو اپنایا تھا جس سے بھی ان کے منفرد جینیاتی نظام کو فائدہ ہوا۔

وہ صحت کے لیے مفید غذاؤں بالخصوص دہی کھانا پسند کرتی تھیں، الکحل اور تمباکو نوشی سے نفرت تھی، چہل قدمی کرنا پسند تھا اور ہمیشہ اپنے اردگرد خاندان اور پیاروں کو دیکھنا پسند کرتی تھیں۔

طرز زندگی کے ان عناصر نے بھی ان کی جسمانی اور ذہنی صحت میں تنزلی کو روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔

انہیں اپنی طویل زندگی کے دوران صرف جوڑوں میں تکلیف اور سننے کی حس سے محرومی جیسے امراض کا سامنا ہوا۔

ان کے زندگی کے روزمرہ کے معمولات نے انہیں زندگی میں صحت مند رکھنے میں کردار ادا کیا جبکہ جینز نے انہیں قدرتی طور پر طور پر ورم اور کولیسٹرول جیسے مسائل سے بچایا۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل سیل رپورٹس میڈیسن میں شائع ہوئے۔

خیال رہے کہ ماریہ برینیاس چپن میں ہی اپنے والد سے محروم ہوگئی تھیں اور اسی وقت ان کے ایک کان کی سننے کی حس ایک حادثے کے باعث ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی تھی۔

انتقال سے کچھ عرصے پہلے تک ان کا ذہن بہترین کام کرتا تھا اور انہیں 4 سال کی عمر کے واقعات بھی یاد تھے، زندگی بھر انہیں کسی قسم کے امراض قلب کا سامنا نہیں ہوا۔

اپنی زندگی میں ماریا برینیاس نے اپنی لمبی زندگی کا راز بتاتے ہوئے کہا تھا کہ 'خاندان اور دوستوں کے ساتھ اچھا تعلق، اطمینان قلب، قدرت کے قریب رہنا، جذباتی استحکام، فکر مندی اور پچھتاوے سے دوری، مثبت سوچ اور منفی ذہنیت والے افراد سے دور رہنا میری لمبی زندگی کا راز ہے'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دہی کھانے کی عادت، جینز اور خوش قسمتی نے بھی لمبی عمر کے حصول میں مدد کی۔

ماریہ برینیاس کے مطابق الکحل، تمباکو نوشی سے دوری، ورزش، ہمدردی، پر امیدی، مزاح اور کچھ سیکھنے کا عمل جاری رکھنا زندگی کا دورانیہ بڑھانے والے عوامل ہیں۔