راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے کا محفوظ فیصلہ تیسری بار مؤخر کرتے ہوئے اب تاریخ 16 اکتوبر مقرر کر دی ہے۔ جمعرات کے روز جب علیمہ خان کے وکیل محمد فیصل ملک اور ان کی قانونی ٹیم عدالت میں پیش ہوئی تو عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ جج صاحب ایک خصوصی کورس میں شرکت کی وجہ سے رخصت پر ہیں۔ یاد رہے کہ صادق آباد تھانے میں درج اس مقدمے کے جج امجد علی شاہ ہیں جنہوں نے کیس کا فیصلہ پہلے ہی محفوظ کر رکھا تھا، تاہم اب اس کا باضابطہ اعلان 16 اکتوبر کو متوقع ہے۔ یہ پورا مقدمہ 26 نومبر 2024 کے اس احتجاج سے جڑا ہوا ہے جب سخت سکیورٹی لاک ڈاؤن کے باوجود پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان دارالحکومت میں داخل ہوئے تھے اور ریڈ زون میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔
دوسری جانب، پشاور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور دیگر کی 27 درخواستوں پر سماعت وکلا کی تیاری نہ ہونے کے باعث 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں قائم تین رکنی لارجر بینچ نے واضح ہدایت کی ہے کہ وکلا 20 اکتوبر کو مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں کیونکہ مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور درخواست گزاروں کے وکلا نے صوبے کے مختلف ارکان اور وزرا کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے اٹھائے جانے کے واقعات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں اپنی حکومت ہونے کے باوجود ایسی صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ عدالت نے واضح کیا کہ وہ اسلام آباد کے معاملات پر براہ راست کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔ سیاسی کشمکش اور ان عدالتی کارروائیوں کو میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انتہائی تشویش اور گہری نظر سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔









