2

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور سے چارسدہ اور مردان کی جانب روانہ، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا سخت گیر مؤقف

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ لکی مروت، کرک، کوہاٹ اور خیبر کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا پشاور پہنچ گیا ہے، جہاں کبوتر چوک پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ پارٹی بانی چیئرمین کی رہائی اور اپنے مطالبات کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹے گی، اور اس مقصد کے لیے کارکنان ہر مرحلے کے لیے تیار ہیں۔ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد شروع ہونے والے اس لانگ مارچ کے نئے روٹ کے مطابق اب یہ قافلہ چارسدہ، مردان، صوابی اور ملاکنڈ کی طرف روانہ ہو گا، جبکہ ممکنہ طور پر 12 اکتوبر تک نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ مارچ کے پیش نظر پشاور اور گردونواح کے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے جزوی طور پر بند ہیں جبکہ سکیورٹی خدشات کے باعث موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل رکھی گئی ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پارٹی کے 4 اہم رہنماؤں اور کارکنوں کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا ہے، جن میں ایم پی اے ڈاکٹر امجد علی، عبدالسلام آفریدی، ڈاکٹر نبی جان اور کارکن شریف زمان شامل ہیں، اور اس دوران صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ادھر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کی صورت میں دوبارہ مذاکرات کی پیشکش پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مؤقف اپنایا ہے کہ وہ غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اس موجودہ سیاسی دنگل اور احتجاجی لہر کے دوران ڈیجیٹل نیوز پورٹلز اور انٹرنیٹ سسٹمز کے ذریعے لانگ مارچ کی اس تازہ ترین صورتحال کو ملک بھر میں مسلسل مانیٹر کیا جا ہے۔