نالہ لئی کے دورے کے موقع پر بلال یاسین نے حالیہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کا جائزہ لیا اور ناقص انتظامات پر ایم ڈی واسا کی سرزنش کی۔
صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ نالہ لئی میں ویسٹ میٹریل اور ملبہ پھینکنے کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور پٹرولنگ کیلئے فورس تعینات کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے دوران نالہ لئی میں پانی بلند ترین سطح تک پہنچا، جس سے کئی کمزوریاں سامنے آئیں۔ ان خامیوں کا جائزہ لے کر مستقبل کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
بلال یاسین کے مطابق راولپنڈی میں پینے کے صاف پانی کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے حل کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیکیج دیا ہے۔ راولپنڈی ڈویژن میں 700 نئے فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں گے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ پنجاب حکومت نالہ لئی پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے جا رہی ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں سیلابی خطرے کے پیش نظر بھی مزید اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات میں ملوث یا ذمہ دار اداروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ان کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ راولپنڈی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے۔
بلال یاسین نے مزید کہا کہ حالیہ سیلابی صورتحال کے دوران پنجاب حکومت ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں رہی اور لاہور سے صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جاتی رہی۔
انہوں نے حنا جاوید قتل کیس کے حوالے سے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کیلئے ہائی پاور کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس کی سربراہی وہ خود کر رہے ہیں۔ سی پی او راولپنڈی سے بھی بریفنگ طلب کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ وقت کا ضیاع ہے اور ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے حوالے سے بار بار نئی تاریخیں دی جاتی ہیں، تاہم ان سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔









