پاکستان کی سیاسی اور انتظامی فضا میں ان دنوں ایک بار پھر نئے صوبوں کی تشکیل، نئی انتظامی اکائیوں کے قیام اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے بحث نے زور پکڑ رکھا ہے۔ بطورِ صحافی اس مباحثے کا قریب سے جائزہ لینے، مختلف ذمہ دار شخصیات سے ہونے والی گفت و شنید اور حالیہ سرکاری بیانات کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس بحث کا عملی نتیجہ روایتی معنوں میں نئے صوبے بننے کی صورت میں نکلتا دکھائی نہیں دیتا۔ زمینی حقائق، آئینی پیچیدگیوں اور حکومتی شخصیات کے اشاروں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معاملہ محض صوبائی سرحدوں کی ردوبدل سے کہیں آگے بڑھ کر ایک وسیع تر انتظامی اصلاحاتی پیکر کی تشکیل کی طرف گامزن ہے۔ اس مباحثے کا اصل ہدف نئے صوبے قائم کرنا نہیں بلکہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو از سر نو تشکیل دینا، نئی اور زیادہ کارآمد انتظامی اکائیاں بنانا اور ایک ایسا مضبوط بلدیاتی نظام متعارف کروانا ہے جس میں مالی اور انتظامی اختیارات دونوں نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں۔
سیاسی دائروں میں اس وقت ’’نئے صوبوں‘‘ کا نعرہ سب سے زیادہ بلند آہنگ ہے، لیکن جب اس موضوع پر پالیسی سازوں اور اہم حکومتی وزراء کے بیانات کو باہم جوڑا جائے تو ایک بالکل مختلف سمت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ملک میں مؤثر انتظامی اکائیوں کی تشکیل اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی ضرورت پر مسلسل زور دے رہے ہیں۔ اسی طرح وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی اس بحث کو محض صوبائی تقسیم کے بجائے بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کے تناظر میں دیکھ چکے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر اہم حکومتی شخصیات کے بیانات بھی اس بات کے غماز ہیں کہ ریاست اس وقت روایتی نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے گہرائی سے سوچ بچار کر رہی ہے۔
ان تمام پیغامات کا خلاصہ یہ ہے کہ ریاست کا بنیادی مسئلہ صوبوں کی گنتی یا ان کی تعداد نہیں ہے۔ پاکستان کو درپیش اصل چیلنج یہ ہے کہ فیصلے کس مقام پر ہوتے ہیں، وسائل کی تقسیم کا محور کیا ہے اور ان فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کی طاقت کس کے پاس محفوظ ہے۔ عام شہری کے لیے اس بحث سے کوئی غرض نہیں کہ اس کا تعلق کس جغرافیائی صوبے سے ہے؛ اس کے لیے ریاست کا اصل اور عملی روپ وہ مقامی ادارہ یا ہسپتال اور اسکول ہے جو اس کی دہلیز پر موجود ہے۔ اگر کسی شہری کو پینے کا صاف پانی، معیاری سڑکیں، صحت کی بنیادی سہولتیں اور تعلیم میسر نہیں تو صوبائی اسمبلیوں کی تعداد میں اضافے سے اس کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
موجودہ بحث کا اگر درست سمت میں تعاقب کیا جائے تو اس کا منطقی انجام نئے صوبوں کی تشکیل کے بجائے موجودہ ڈویژنوں اور اضلاع کی سطح پر طاقت کی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ملک کے موجودہ فریم ورک میں یہ انتہائی قابلِ عمل ہے کہ ڈویژنل یا ضلعی سطح کو صرف نام کی اکائیاں نہ رہنے دیا جائے بلکہ انہیں حقیقی آئینی اور انتظامی طاقت بخشی جائے۔
تاہم، یہاں ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ اختیارات کی منتقلی کا مفہوم صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فائلوں کی نقل و حرکت صوبائی دارالحکومت سے نکل کر ضلعی ہیڈ کوارٹر تک محدود ہو جائے۔ اختیارات کی یہ منتقلی دو بنیادی ستونوں پر استوار ہونی چاہیے:
انتظامی اختیار: مقامی سطح پر بیٹھے افسران اور اداروں کو اپنے علاقے کے روزمرہ کے فیصلے خود کرنے کی آزادی ہو۔
مالی اختیار: فیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ فنڈز اور ٹیکس جمع کرنے یا خرچ کرنے کے اختیارات بھی براہِ راست مقامی سطح پر منتقل ہوں۔
پاکستان میں ماضی کی تمام تر کوششیں اسی نکتۂ کمزور کی وجہ سے ناکام ہوئیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو تو کثیر اختیارات منتقل کر دیے گئے، لیکن صوبائی حکومتوں نے وہ اختیار اپنے سے نچلی سطح یعنی اضلاع اور یونین کونسلوں تک منتقل کرنے میں انتہائی بخل سے کام لیا۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد تو روایتی مجبوریوں کے تحت ہوتا رہا، لیکن انہیں کبھی بھی مالی طور پر خود کفیل اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کی نیت خالص نہیں رکھی گئی۔ ایک پائیدار نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں مقامی حکومتیں صوبائی دست نگر نہ ہوں بلکہ اپنے وسائل کی بنیاد پر خود مختارانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
اگر پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی طرف قدم بڑھایا جائے تو اس کے راستے میں اتنی زیادہ آئینی، قانونی اور سیاسی رکاوٹیں حائل ہیں کہ یہ عمل طویل عرصے تک غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔ نئے صوبے بنانے کے لیے آئین میں ترمیم درکار ہوتی ہے جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس عمل کے دوران درج ذیل مسائل سر اٹھاتے ہیں
ملک کے مختلف خطوں سے متضاد اور مسابقتی مطالبات کا سامنے آنا۔
اثاثوں، ملازمین، پانی اور مالیاتی وسائل کی تقسیم کے پیچیدہ تنازعات۔
نئے صوبائی دارالحکومتوں کے تعین پر شدید سیاسی کشمکش۔
اس کے برعکس، موجودہ صوبائی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے صوبوں کے اندر ہی انتظامی اکائیوں کو بااختیار بنانا نسبتاً کم سیاسی پیچیدگی کا حامل اور زیادہ مؤثر راستہ ہے۔ صوبوں کا اپنا آئینی وجود اپنی جگہ قائم رہ سکتا ہے، لیکن صوبائی حکومتوں کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے وسائل اور اختیارات کو نچلی سطح پر عوام کے قریب منتقل کریں۔
عصر حاضر میں دنیا بھر میں طرزِ حکمرانی کا ماڈل یہ بن چکا ہے کہ طاقت کو عوام کے جتنا قریب ممکن ہو، منتقل کیا جائے۔ پاکستان میں بھی اگر پائیدار ترقی اور امن کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنا ہے تو ہمیں اختیارات کے ارتکاز کی روایت کو ترک کرنا ہوگا۔
نئی انتظامی اکائیاں تشکیل دیتے وقت اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہاں سرکاری افسران اور منتخب عوامی نمائندگان ایک مربوط اور واضح سسٹم کے تحت کام کریں۔ اس نظام میں ہر سطح کی ذمہ داری واضح ہو، کارکردگی کی جانچ کا شفاف طریقہ کار موجود ہو اور سب سے بڑھ کر عوامی جواب دہی کا ایسا نظام ہو کہ کوئی بھی مقامی منتظم اپنے عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔ اگر نئی انتظامی اکائیاں بنا کر ان پر صرف بیوروکریسی کا بوجھ بڑھا دیا گیا اور اصل اختیار صوبائی دارالحکومت کے ایوانوں میں ہی قید رہا، تو اس سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آ سکتی۔
اس پوری بحث کا نچوڑ یہی ہے کہ طوفانِ شور شرابہ چاہے نئے صوبوں کے نام پر جتنا بھی بلند ہو، اس کا حقیقی اور قابلِ عمل حل ایک ایسا نیا انتظامی اور حکمرانی کا نظام ہے جو عوام کو ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کی طاقت دے۔ پاکستان کو اس وقت مزید صوبوں کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی کہ ایک ایسے نچلی سطح کے بااختیار مالی اور انتظامی ڈھانچے کی ہے جہاں عام شہری اپنے وسائل کا خود نگہبان ہو اور اپنے منتخب نمائندوں سے براہِ راست بازپرس کر سکے۔ اگر اس سمت میں سنجیدہ اور عملی پیشرفت ہو گئی تو یہ ملک کی تاریخ کا ایک روشن ترین موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر صوبوں کی تعداد بڑھانے سے بھی حکمرانی کے بنیادی مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے۔









