4

وسطی افریقی میں سونے کی کان میں خوفناک حادثہ، 100 سے زائد کان کن جاں بحق

مغربی علاقے میں غیر قانونی اور غیر محفوظ سونے کی کان بیٹھنے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی، جبکہ ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

حادثہ 18 اگست 2026 کو کیمرون کی سرحد کے قریب زَمبوئے کے مقام پر قائم ایک غیر رسمی سونے کی کان میں پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق منگل کی دوپہر تقریباً 2 بجے کان کے اندر موجود متعدد زیرِ زمین راستے اچانک منہدم ہوگئے، جس کے بعد مٹی کا تودا گرنے سے کان کا بڑا حصہ دب گیا۔

ریڈ کراس کے رضاکاروں نے جائے وقوعہ سے اب تک 100 سے زائد لاشیں نکال لی ہیں، جبکہ بعض مقامی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 107 تک بتائی گئی ہے۔

امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم دشوار گزار علاقے اور محدود وسائل کے باعث امدادی کارکنوں کو ملبے تلے دبے افراد تک پہنچنے اور مزید لاشیں نکالنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ کچھ کان کنوں کے تاحال لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق کان میں کئی زیرِ زمین سرنگیں موجود تھیں جو اچانک بیٹھ گئیں۔ اس کے بعد مٹی کا تودا گرنے سے وہاں موجود کان کنوں کو باہر نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔

پراسیکیوٹرز نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ، کان کے آپریشن کے ذمہ دار افراد اور ممکنہ مجرمانہ غفلت کا تعین کیا جاسکے۔

حکام کے مطابق یہ کان غیر رسمی اور غیر قانونی طور پر چل رہی تھی، جہاں کان کن جدید مشینری اور بنیادی حفاظتی سہولیات کے بغیر زیرِ زمین کام کر رہے تھے۔ ایسی غیر محفوظ کانوں میں حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کے باعث حادثات کا خطرہ مسلسل موجود رہتا ہے۔

حادثے میں وسطی افریقی جمہوریہ کے شہریوں کے علاوہ پڑوسی ملک کیمرون سے تعلق رکھنے والے کان کن بھی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق کم از کم چار کیمرون کے شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں رواں سال کان کنی کے متعدد حادثات پیش آچکے ہیں۔ جون میں کیمرون کی سرحد کے قریب ایک اور سونے کی کان بیٹھنے سے کئی افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ فروری میں گوردی کے علاقے میں کان کے حادثے میں 20 افراد جان سے گئے تھے۔