لندن: برطانیہ میں 'سالمونیلا اینٹریٹائڈس' نامی بیکٹیریا کے پھیلاؤ کے بعد ہیلتھ پروٹیکشن حکام نے ملک گیر سطح پر ہائی الرٹ اور حفاظتی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز اور برطانوی طبی ذرائع کے مطابق اس وبا کے نتیجے میں اب تک 207 مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ کم از کم 34 افراد کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق متاثرین میں سے 199 افراد کا تعلق انگلینڈ سے ہے، جبکہ باقی کیسز اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دو متاثرہ افراد میں انفیکشن خون کی نالیوں تک پھیل جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ بیکٹیریا آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر چھوٹی آنت کو متاثر کرتا ہے، جس سے آنتوں کے پانی اور غذائی اجزا جذب کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پیٹ میں شدید مروڑ، اسہال (دست) اور قے کی شکایت ہوتی ہے۔ اگر بیکٹیریا خون کے بہاؤ میں شامل ہو جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علامات کے اعتبار سے یہ ٹائیفائیڈ سے ملتی جلتی وبا ہے، تاہم سالمونیلا میں دست، الٹی اور مروڑ کی شدت زیادہ ہوتی ہے جبکہ ٹائیفائیڈ میں مسلسل اور شدید بخار کا غلبہ رہتا ہے۔









