بالی ووڈ کے سینئر اداکار اور سیاست دان شتروگھن سنہا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بیٹی سوناکشی سنہا کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنانے والی ٹرولنگ کے پیچھے مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا آئی ٹی سیل ملوث ہے۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شتروگھن سنہا نے سوناکشی سنہا کے سیاسی خیالات اور حالیہ طلبا احتجاج کی حمایت پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں ان کی بیٹی کے خیالات ان سے بھی زیادہ مضبوط اور دوٹوک ہیں۔
شتروگھن سنہا نے سوناکشی کی جانب سے دہلی کے طلبا احتجاج کی حمایت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اداکارہ نے اس سے قبل جھاڑکھنڈ کے طلبا کی حمایت بھی کی تھی۔
’پیڈ ٹرولز کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے‘
شتروگھن سنہا نے دعویٰ کیا کہ سوناکشی سنہا کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ خود بخود نہیں ہوتی بلکہ بعض افراد کو مبینہ طور پر معاوضہ دے کر انہیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کا آئی ٹی سیل اس سرگرمی میں ملوث ہے۔ شتروگھن سنہا کے مطابق سوناکشی نے ایسے ٹرولز کو نظرانداز کرکے درست فیصلہ کیا ہے اور وہ خود بھی انہیں اہمیت نہیں دیتیں۔
سوناکشی کا سیاست میں آنے کا امکان
سوناکشی سنہا کے مستقبل میں سیاست میں آنے سے متعلق سوال پر شتروگھن سنہا نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سوناکشی ان کے لیے ایک قابلِ فخر بیٹی ہیں۔
انہوں نے ماضی میں بیٹی سے سیاست میں آنے کے حوالے سے سوال کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے۔
شتروگھن سنہا نے سماجی کارکن سونم وانگچک کے معاملے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ سوناکشی نے ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی تھی۔
واضح رہے کہ سوناکشی سنہا اس سے قبل بھی مختلف سیاسی اور سماجی معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہی ہیں، جس کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔









