رمضان المبارک کے دوران دن بھر روزہ رکھنے کے بعد افطار کے وقت شدید بھوک محسوس ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر، طویل وقفے کے بعد جسم کو فوری توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر بعض افراد اس وقت ایسی غذائی عادات اختیار کرتے ہیں جو صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ افطار کے دوران غلط غذاؤں کا انتخاب، جلد بازی میں کھانے کا استعمال، اور ضرورت سے زیادہ کھانے جیسی عادات معدے کے مختلف مسائل جیسے پیٹ پھولنے، تیزابیت، اضافی گیس اور سینے میں جلن کا سبب بن سکتی ہیں۔
افطار میں درست غذاؤں کا انتخاب کیوں ضروری ہے؟
ماہرین صحت کے مطابق، روزہ کھولنے کے لیے صحت بخش غذائیں استعمال کرنا نہایت ضروری ہے۔ افطار میں سب سے پہلے کھجور اور پانی کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ کھجور قدرتی شکر فراہم کرتی ہے، جو جسمانی توانائی کو فوری طور پر بڑھاتی ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو متوازن رکھتی ہے۔ اسی طرح، پانی کا استعمال پورے دن کی پیاس کو کم کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
غیر صحت بخش افطاری کی وجوہات اور ان کے نقصانات
1. زیادہ تیل والی اشیا سے افطار کرنا
بیشتر افراد افطار کے وقت تلی ہوئی اشیا جیسے سموسے، پکوڑے اور رولز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، جو نہ صرف معدے پر بوجھ ڈالتا ہے بلکہ سینے میں جلن، تیزابیت اور پیٹ پھولنے جیسے مسائل پیدا کرتا ہے۔ ان غذاؤں میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو نظام ہاضمہ کو سست کر دیتی ہے اور پیٹ میں بھاری پن کا احساس بڑھا دیتی ہے۔
2. کھانے میں عجلت
زیادہ بھوک کے باعث لوگ افطار کے وقت بہت تیزی سے کھانے لگتے ہیں، جس سے غذا کو صحیح طرح چبانے کا موقع نہیں ملتا۔ نتیجتاً، معدے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، جو ہاضمے کے مسائل جیسے اضافی گیس اور سینے میں جلن کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کھانے کو اچھی طرح چبا کر کھانے سے جسم کو ضروری غذائی اجزاء بہتر طریقے سے جذب کرنے کا موقع ملتا ہے۔
3. بسیار خوری
افطار کے دوران ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت نہ صرف وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ ہاضمے کی خرابی، سستی اور تھکاوٹ بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ایک ساتھ زیادہ کھانے سے معدہ ضرورت سے زیادہ بھر جاتا ہے، جس سے پیٹ پھولنے اور تیزابیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اعتدال سے کھانے اور کم مقدار میں غذائی اشیا لینے سے ان مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
4. میٹھی اشیا کا حد سے زیادہ استعمال
بعض افراد افطار کے بعد زیادہ مقدار میں مٹھائیاں، مشروبات اور دیگر چینی سے بھرپور اشیا استعمال کرتے ہیں، جو بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافہ کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں جسمانی توانائی پہلے تو بڑھتی ہے مگر کچھ وقت بعد اچانک کم ہو جاتی ہے، جس سے شدید تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ بہتر ہے کہ میٹھی اشیا کی جگہ قدرتی شکر والی غذائیں جیسے پھل، کھجور اور دہی کو ترجیح دی جائے۔
صحت مند افطار کے لیے ماہرین کی تجاویز
-
کھجور اور پانی سے افطار کریں تاکہ بلڈ شوگر متوازن رہے اور جسمانی توانائی بحال ہو سکے۔
-
تلی ہوئی اشیا سے گریز کریں اور اس کے بجائے کم چکنائی والی غذائیں جیسے پھل، سبزیاں اور دہی استعمال کریں۔
-
آہستہ کھائیں اور اچھی طرح چبائیں تاکہ نظام ہاضمہ بہتر طریقے سے کام کرے اور پیٹ پھولنے جیسے مسائل پیدا نہ ہوں۔
-
زیادہ مقدار میں کھانے سے بچیں اور اعتدال میں رہ کر کھانے کی عادت اپنائیں تاکہ معدہ صحت مند رہے۔
-