رمضان المبارک کا مقدس مہینہ روحانی پاکیزگی اور جسمانی و ذہنی نظم و ضبط کا بہترین موقع ہے۔ ماہرین غذائیت اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ رمضان کے لیے جسمانی تیاری اور متوازن غذا کا انتخاب صحت مند روزوں کی ضمانت ہے۔
ماہرین کے مطابق رمضان سے پہلے اپنی کھانے پینے کی عادتوں کو بتدریج بدلنا ضروری ہے۔ روزے کے دوران جسم کو اچانک خوراک کی کمی اور پانی کی قلت کا سامنا نہ ہو، اس کے لیے بہتر ہے کہ کیفین اور اضافی کھانوں کی مقدار کو پہلے ہی کم کیا جائے۔
رمضان میں سب سے عام غلطی سحری چھوڑنا ہے، جس سے دن بھر تھکاوٹ اور پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹرز سحری میں فائبر، پروٹین اور صحت مند چکنائیوں پر مشتمل غذا تجویز کرتے ہیں، تاکہ دن بھر توانائی برقرار رہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق افطار اور سحری کے درمیان کم از کم 10 گلاس پانی پینا ضروری ہے، تاکہ جسم میں ہائیڈریشن برقرار رہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ رمضان میں تلی ہوئی، زیادہ نمکین اور غیر صحت مند کھانے نہ صرف وزن بڑھاتے ہیں بلکہ ہاضمے اور دیگر جسمانی مسائل کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اسی طرح میٹھے کا زیادہ استعمال بھی جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے، اس لیے متوازن غذا کا انتخاب ضروری ہے۔
ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ رمضان سے پہلے اپنی جسمانی حالت کا جائزہ ضرور لینا چاہیے، تاکہ کسی بھی طبی مسئلے کو پہلے ہی سنبھالا جا سکے۔ غذائیت اور صحت پر توجہ دے کر رمضان المبارک کو نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی اور ذہنی تجدید کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔