34

گیس بحران: وزیراعظم کا گیس کمپنیوں کے سربراہان فوری ہٹانے کا حکم

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا کہنا ہے کہ گیس بحران کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس لمیٹڈ کمپنیوں کے سربراہان کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر 'ٹویٹ' کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ 'حالیہ دنوں میں عوام کو گیس کے شدید بحران کا سامنا رہا، وزیر اعظم نے گیس کے بحران کی ذمہ داری کے تعین کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، انکوئری کمیٹی کی رپورٹ کل وزیر اعظم کو پیش کی گئی۔'

انہوں نے کہا کہ 'اس رپورٹ کے مد نظر وزیر اعظم نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے سربراہان کو عہدوں سے فوری ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔

Ch Fawad Hussain@fawadchaudhry

حالیہ دنوں میں عوام کو گیس کے شدید بحران کا سامنا رہا، وزیر اعظم نے گیس کے بحران کی ذمہ داری کے تعین کیلئے کمیٹی تشکیل دی اس انکوئری کمیٹی کی رپورٹ کل وزیر اعظم کو پیش کی گئ اس رپورٹ کے مد نظر وزیر اعظم نے سوئ سدرن اور سوئ ناردن کے سربراھان کو عہدوں سے فوری ہٹانےکا اعلان کیا ہے

7,766

4:16 PM - Jan 9, 2019

Twitter Ads info and privacy

2,259 people are talking about this

Twitter Ads info and privacy

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ملک میں گیس کی سپلائی متاثر ہونے کی انکوائری کا حکم دیا تھا، گیس بحران سے کراچی اور پنجاب بھر میں نہ صرف صنعتیں بند ہوگئی تھیں بلکہ گھریلو صارفین بھی شدید متاثر ہوئے تھے۔

وزیر اعظم نے وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان کو طلب کیا تھا جنہوں نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ گیس کے حالیہ بحران کی ذمہ داری بنیادی طور پر 'ایس این جی پی ایل' اور 'ایس ایس جی سی ایل' پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں نے نہ صرف حکومت سے بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا بلکہ دسمبر کے مہینے میں گیس کی طلب کے حوالے سے تخمینہ سازی میں بھی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیا۔

وزیرپیٹرولیم نے ملک میں گیس کی مقامی پیداوار کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت جنوب میں واقع گیس فیلڈز کی کل پیداوار 1200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 80 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہے، اسی طرح شمال میں کنڑ پساکی اور گمبٹ فیلڈ میں بھی گیس پیداوار میں50 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی واقع ہوئی ہے۔