2

تہران میں اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیاں: پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس سربراہ کا آج تہران کا دورہ

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ علاقائی سلامتی اور اہم امور پر مشاورت کے لیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ ترین عسکری و سکیورٹی حکام آج تہران کا دورہ کریں گے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی اپنے سفارتی ذرائع سے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

اعلیٰ سطح کی نمائندگی: رائٹرز کے مطابق اس اہم مشاورتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جبکہ ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن کریں گے۔

ملاقات کا پس منظر: یہ ملاقات ایسے وقت میں طے پائی ہے جب یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے بڑھ رہے ہیں، اور یہ تینوں برادر ممالک کے اتحاد اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والا پہلا براہِ راست رابطہ ہے۔ (تاہم تاحال سعودی میڈیا آفس، پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ ISPR اور ترک وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا)۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مسلسل دوسرا دورہ: واضح رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ ہفتے بھی تہران کے دورے پر گئے تھے جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس دورے میں تہران نے واضح کیا تھا کہ مطالبات پورے ہونے تک امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

خطے میں جنگ کے بادل اور سیاسی پس منظر: خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے منڈلاتے سایوں کو امریکہ اور اسرائیل کے اندرونی سیاسی عمل سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ امریکہ میں مڈٹرم انتخابات 3 نومبر جبکہ اسرائیل میں جنرل انتخابات 27 اکتوبر (منگل کے روز) کو ہونا قرار پائے ہیں، جن سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت خطے میں کسی بڑے بریک تھرو یا فیصلے کے خواہاں ہیں۔