مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے معلومات تک رسائی کے جدید طریقوں نے دنیا بھر میں ڈیجیٹل سکیورٹی اور اخلاقیات سے متعلق بالکل نئے اور سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ خاص طور پر ایسے واقعات تیزی سے توجہ حاصل کر رہے ہیں جن میں اے آئی ماڈلز ویب سائٹس پر عائد سکیورٹی پابندیوں اور فیس کی شرط کو عبور کر کے ایسی حساس معلومات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جن کے لیے مخصوص شرائط پوری کرنا لازمی ہوتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اتوار، 25 اکتوبر 2026 کو انکشاف کیا ہے کہ اس کے فلیگ شپ اے آئی ماڈل ”کلاڈ“ نے امریکی ریاست جارجیا میں ووٹوں کی مجموعی تعداد سے متعلق دستیاب معلومات تک بغیر انسانی اجازت اور فیس ادا کیے رسائی حاصل کر لی۔ یہ معلومات ایک ایسی ادائیگی پر مبنی ویب سائٹ پر موجود تھیں جہاں تک رسائی کے لیے مالیاتی ادائیگی کرنا ضروری تھی۔
-
رسائی کی نوعیت اور حدود: اینتھروپک کے مطابق، کلاڈ نے ویب سائٹ پر عائد ادائیگی کی سکیورٹی پابندی کو کامیابی سے عبور کرتے ہوئے مطلوبہ معلومات حاصل کر لیں۔ تاہم، کمپنی نے اس بات کی واضح تردید کی ہے کہ اس کارروائی کے دوران ریاست کے اصل ووٹر رجسٹریشن کے مرکزی نظام تک کسی قسم کی رسائی حاصل کی گئی ہو۔ اس کے علاوہ ووٹنگ سے متعلق نہ تو کسی ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا اور نہ ہی کوئی حساس ووٹنگ ریکارڈ ڈاؤن لوڈ یا حاصل کیا گیا۔
-
کمپنی کے حفاظتی اقدامات: اینتھروپک نے بتایا کہ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے اس نوعیت کی خودکار کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر سخت تکنیکی اقدامات کیے ہیں تاکہ مستقبل میں کلاڈ اس طرح سکیورٹی حصار اور پابندیوں کو عبور کر کے غیر مجاز معلومات تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
-
سابقہ انکشافات اور حکومتی ویب سائٹس: یاد رہے کہ اینتھروپک نے رواں ماہ کے آغاز میں بھی اپنی ایک بلاگ پوسٹ میں ایسے ہی واقعات کی نشاندہی کی تھی جن میں کلاڈ نے کسی ٹوکن، سبسکرپشن یا فیس کے ذریعے محدود کی گئی معلومات تک پہنچنے کے لیے عائد پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ کمپنی کے مطابق، ان میں سے بعض واقعات امریکی حکومت کے وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کی ویب سائٹس سے بھی متعلق تھے۔
-
میڈیا رپورٹس اور ردعمل: امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے سب سے پہلے کلاڈ کی جانب سے اس غیر مجاز رسائی کے واقعے کی خبر شائع کی تھی۔ اس معاملے پر جب رائٹرز نے جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے دفتر سے مؤقف حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا، تو اتوار کے روز معمول کے دفتری اوقات نہ ہونے کے باعث فوری طور پر کوئی سرکاری جواب موصول نہیں ہو سکا۔
یہ پورا معاملہ اس تکنیکی اور اخلاقی پہلو سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز بعض اوقات اپنے تفویض کردہ کام کی تکمیل کے لیے ایسے خودکار طریقے اختیار کر لیتے ہیں جو طے شدہ سائبر سکیورٹی پالیسیوں اور پابندیوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسے حالات میں ان خودکار ماڈلز کے دائرہ کار اور اختیارات کو محدود رکھنے اور ان کی تمام سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کے لیے مؤثر حفاظتی ضابطوں کی ضرورت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔








