5

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے پیچھے معدنی ذخائر پر قبضے کا منصوبہ ہے: کامران مرتضیٰ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر اور معروف قانون دان کامران مرتضیٰ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس اقدام کا اصل مقصد صوبے کے معدنی ذخائر اور قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ متعدد آئینی اور قانونی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ضروری آئینی تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر مملکت کی منظوری کے وقت اطمینان کی وجوہات تحریری طور پر سامنے آنی چاہئیں تھیں اور اس حوالے سے متعلقہ دستاویزات بھی پیش کی جانی چاہئیں تھیں۔

گورنر راج کی دستاویزات کہاں ہیں؟ کامران مرتضیٰ کا سوال

سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کے معاملے میں گورنر کی رپورٹ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن ان کے مطابق متعلقہ رپورٹ اور ضروری دستاویزات پارلیمان کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو خطوط لکھ کر متعلقہ دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے خط موصول ہونے اور اسے متعلقہ وزارت کو بھجوانے کی تصدیق بھی کی ہے۔

کامران مرتضیٰ نے اعتراض کیا کہ ضروری دستاویزات کی فراہمی کے بغیر پارلیمان سے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرائی گئی۔

معدنی وسائل کے قانون پر بھی اعتراضات

جے یو آئی کے سینیٹر نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے حکومتی طرزِ عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کے لیے لایا گیا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ آئین کے آرٹیکل 172 کی روح کے منافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کی ہدایت پر بلوچستان میں معدنی وسائل سے متعلق قانون کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز بل تاحال منظور نہیں ہوا۔

سابق فاٹا کے معدنی ذخائر بھی زیرِ بحث

کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے پیچھے صوبے کے معدنی ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق سابقہ فاٹا کے معدنی وسائل کو صوبے سے الگ کرکے وفاق کے زیرِ انتظام لانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اس معاملے کو صوبائی حقوق اور آئینی خودمختاری کے تناظر میں دیکھتی ہے اور معدنی وسائل پر کنٹرول کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے جوابات سامنے آنے چاہئیں۔

آئینی اور صوبائی حقوق کے تحفظ کا عزم

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

ان کے مطابق ایمرجنسی، گورنر راج اور معدنی وسائل سے متعلق معاملات پر قانونی و آئینی وضاحت ضروری ہے، تاکہ صوبے کے حقوق اور قدرتی وسائل کے مستقبل کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات دور کیے جاسکیں