6

ایران کی حمایت سے گریز کریں، امریکی وزیر خزانہ کی عالمی برادری کو وارننگ

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تمام ممالک کو ایران سے دور رہنے اور ایرانی حکومت کی حمایت سے گریز کرنے کی تنبیہ کردی۔

اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ایران کی حمایت کرنے والے ممالک اور افراد سے تفصیلی بات چیت جاری ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے عناصر کے خلاف مزید کارروائی پر غور کر رہا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے، جس میں ایئر لائنز، بحری شعبہ اور ڈیجیٹل اثاثوں سمیت اہم اقتصادی شعبے شامل ہوسکتے ہیں۔

ان کے مطابق امریکا ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی مہم جاری رکھے گا اور ایرانی بینکوں کے خلاف نئی پابندیاں اسی ہفتے عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ امریکی حکام مستقبل میں ہفتہ وار بنیادوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں، جن کا ابتدائی ہدف مالیاتی ادارے ہوں گے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ان اداروں کو بھی نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے جو ایران یا پاسداران انقلاب سے کاروباری روابط رکھتے ہیں۔ ایئر لائن لیزنگ کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف بھی ممکنہ اقدامات زیر غور ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایوی ایشن، ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، شپنگ اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں سے فائدہ اٹھاتا ہے، اسی لیے ان شعبوں کو پابندیوں کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکی پالیسی کے تحت ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تیسرے ممالک اور اداروں پر بھی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن ایران کے مالیاتی روابط محدود کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے تیل، شپنگ اور عالمی تجارتی نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اور یکم ستمبر کو دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔