4

پنجاب میں سیلابی صورتحال سنگین، پی ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ جاری

مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے، جس کے بعد پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مجموعی طور پر مستحکم رہا، تاہم دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔

حکام کے مطابق کالا باغ کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 34 ہزار کیوسک، چشمہ میں 3 لاکھ 70 ہزار کیوسک جبکہ تونسہ بیراج پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 13 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں کمی آ رہی ہے، تاہم مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں کے مقامات پر اب بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 43 ہزار، خانکی میں 1 لاکھ 38 ہزار، قادر آباد میں 1 لاکھ 35 ہزار جبکہ تریموں میں 1 لاکھ 84 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ادارے کے مطابق دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقامات پر بھی نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے، جہاں پانی کا بہاؤ بالترتیب 81 ہزار اور 60 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جبکہ دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ نارووال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے، نالہ ایک میں نچلے درجے جبکہ وزیر آباد کے نالہ پھلکو میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 5 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے کہا ہے کہ بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھا، تاہم دریائے چناب کے بالائی علاقوں میں بارشیں رکنے کے بعد صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔

انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے فلڈ ریلیف کیمپس میں بنیادی سہولیات اور ادویات کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو دریاؤں، ندی نالوں اور خطرناک مقامات پر جانے سے روکیں جبکہ دریا عبور کرنے کے لیے صرف معیاری کشتیوں اور لائف جیکٹس کا استعمال یقینی بنایا جائے۔