74

پاکستان کے چاول کی برآمدات متاثر، عالمی ریٹ میں کمی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں چاول کی برآمدات اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کی صورت حال پر تشویشناک انکشافات ہوئے ہیں۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان کی چاول کی برآمدات میں واضح کمی واقع ہوئی جبکہ عالمی مارکیٹ میں چاول کی قیمتیں تقریباً نصف رہ گئیں۔

اجلاس میں جاوید حنیف نے کہا کہ رائس ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) سے 15 ارب روپے جاری کیے گئے، اور سوال اٹھایا گیا کہ نئے بورڈ کے قیام سے دو دن پہلے کس نے اس کی منظوری دی۔ حکام نے بتایا کہ اس سال دنیا میں چاول کی پیداوار بڑھ گئی اور بھارت نے 2023-2024 میں برآمدات شروع کر کے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم کر دی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے ریٹ میں 20 ڈالر کا فرق پیدا ہوا۔

مزید بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے چاول کے ذخائر موجود ہیں اور بعض اسٹاکسٹ نے ریئل اسٹیٹ کے پیسے بھی چاول کی خریداری میں استعمال کیے۔ اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایران میں پاکستانی باسمتی اور نان باسمتی چاول جعلی طور پر فروخت ہو رہے ہیں۔

چاول کے سیکٹر کو مالی معاونت فراہم نہ کیے جانے کے باوجود بورڈ نے ایکسپورٹرز کو ریلیف فراہم کیا، جبکہ ماضی میں ایسی امداد کئی مرتبہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو دی جا چکی ہے۔ اس واقعے نے مارکیٹ میں خطرے اور برآمدات کے مستقبل پر سوالات کو جنم دے دیا ہے، جس سے متعلقہ حکام اور صنعت کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔