47

مالیاتی دباؤ: پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز، سود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ: گزشتہ سال 11 کروڑ 44 لاکھ ڈالر نیا قرض لیا گیا

اسلام آباد: پاکستان کے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی میں گزشتہ تین سال کے دوران 84 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تین سال کے دوران صرف سود کی ادائیگی کا حجم ایک ارب 91 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر تین ارب 59 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

 

دستاویز کے مطابق پاکستان بیرونی قرضوں پر 8 فیصد شرح سود ادا کر رہا ہے، جس میں آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، کمرشل بینکوں، سعودی عرب اور چین شامل ہیں۔ سود سمیت سالانہ قرض کی ادائیگی پر 13 ارب 32 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ نیٹ بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال 1.71 ارب ڈالر اضافہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق، پاکستان نے گزشتہ سال 11 کروڑ 44 لاکھ ڈالر نیا قرض لیا، اور 9.73 ارب ڈالر اصل رقم ادا کی۔ آئی ایم ایف کو 2.10 ارب ڈالر کی ادائیگی کی گئی، جس میں 58 کروڑ ڈالر سود شامل ہے۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سود سمیت 1.56 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔ اے ڈی بی کو 1.54 ارب ڈالر، عالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔

سعودی عرب کو قرض کی مد میں 81 کروڑ ڈالر ادا کیے گئے، اور سیف ڈیپازٹس پر 20 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود بھی دیا گیا۔ چین کو سیف ڈیپازٹس کے 23 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سود سمیت 40 کروڑ ڈالر ادا کیے گئے۔ یوروبانڈ کی مد میں 50 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی گئی، جبکہ جرمنی اور فرانس کو بالترتیب 10 کروڑ 70 لاکھ اور 24 کروڑ ڈالر ادا کیے گئے۔ اسلامی ترقیاتی بینک کو 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا قرض واپس کیا گیا۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق سود کی اس سطح پر ادائیگی ملکی مالیاتی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے اور بیرونی قرضوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح سے قومی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔