صنعت، کاروبار اور دیگر شعبوں پر سپر ٹیکس کے معاملے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بحث کا موضوع بن گیا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ سپر ٹیکس سے لوگوں پر غیر ضروری دباؤ بڑھا ہے، اور آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ پارلیمان کا اختیار ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے بھی دوہرے سپر ٹیکس پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ ایف بی آر نے گرفتاریوں اور دھمکیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ فروری میں صورتحال پر دوبارہ کمیٹی کو بریفنگ دیں گے اور چیئرمین ایف بی آر سے اصلاحات پر مکمل پریزنٹیشن لی جائے گی۔
شیری رحمٰن نے نشاندہی کی کہ ایک ہی کلاس سے بار بار ٹیکس بڑھانا کوئی پائیدار ریونیو ماڈل نہیں، اور آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کے بعد زمینی حقائق پر بھی توجہ دی جائے۔ انہوں نے عوام کے بے روزگار ہونے اور پبلک پرائیویٹ سیکٹرز کے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بند ہونے والے اداروں کو مکمل پیکجز کے ساتھ بند کیا جا رہا ہے اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کمیٹی سے مشاورت ہوگی اور سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے ضرورت پڑنے پر اقساط بھی ممکن ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کسی کاروبار کو بند نہیں کیا جائے گا اور سپر ٹیکس کی کل وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے۔









