91

پی آئی اے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح

اسلام آباد: وفاقی سیکریٹری نجکاری عثمان باجوہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیحی منصوبہ ہے۔ سینیٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کے اجلاس میں سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے اور حکومت نجکاری کے لیے اوپن بڈنگ کے ذریعے سب سے زیادہ بولی لگانے والی کمپنی کو ایئرپورٹ کا انتظام سونپے گی۔

سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ اسلام آباد کے بعد کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کو بھی آؤٹ سورس کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مالی مشیر کی تقرری بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) بھی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ میں پاکستان کی مدد میں دلچسپی رکھتا ہے، اور تینوں بڑے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے بعد موجودہ عملہ دیگر چھوٹے ایئرپورٹس پر منتقل کیا جائے گا تاکہ ان کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔

اجلاس میں سوالات کے دوران سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ 2024 میں پی آئی اے کی نجکاری کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ سینیٹر پلوشہ خان نے عارف حبیب گروپ کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر التوا درخواست اور مسابقتی کمیشن کے فیصلے کے حوالے سے سوال اٹھایا، جس پر سیکریٹری نے کہا کہ نجکاری کمیشن کو کسی ادارے سے متعلقہ عدالت یا کمیشن کا کوئی فیصلہ موصول نہیں ہوا اور کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی یا بلیک لسٹ کا مواد سامنے نہیں آیا۔

سینیٹر بلال احمد نے سوال کیا کہ بولی دہندگان کو بغیر ایوی ایشن تجربہ کے کس طرح بولی میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی، جس پر سینیٹر افنان اللہ خان نے جواب دیا کہ نجکاری کے لیے ایسی شرط مقرر نہیں کی گئی تھی۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ ٹینڈر نہیں بلکہ نجکاری ہے اور نجکاری کے طریقہ کار کو ٹینڈر کے اصولوں سے نہیں جوڑا جا سکتا، کیونکہ نجکاری کا طریقہ کار حکومت اور عالمی اداروں کی منظوری کے بعد نافذ کیا جا رہا ہے۔

سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ایئرپورٹس کی نجکاری میں دلچسپی بڑھ گئی ہے اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخلے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے، جس کی وجہ سے نجکاری ناگزیر ہو گئی ہے۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کیا اب حکومت خود کوئی کام نہیں کرے گی اور سب کچھ باہر والوں کے حوالے کر دیا جائے گا، جبکہ چیئرمین کمیٹی نے کراچی ایئرپورٹ پر چوہوں کی موجودگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ حکومت ائیرپورٹس کی نجکاری کرے گی، جبکہ سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں ایئرپورٹس چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی آؤٹ سورسنگ میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ سے سول ایوی ایشن اتھارٹی چھوٹے ایئرپورٹس کو بہتر بنا سکے گی۔

اجلاس کے اختتام پر سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ حکومت ایک بار میں ہی تمام ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کر دے، اس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی بہتر رائے دے سکتی ہے۔