حکومت پنجاب نے گندم پالیسی 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سٹریٹجک گندم ذخائر اب نجی اور سرکاری سٹیک ہولڈرز کے ذریعے خریدے جائیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق رواں سال نئی گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال 2025 میں گندم کی قیمت اوپن مارکیٹ کے برابر رکھی گئی تھی۔ حکومت پنجاب رواں سیزن میں 25 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم کے ذخائر خریدے گی۔
پالیسی کے مطابق سٹریٹجک گندم ذخائر کی خریداری اور انتظام بینکوں کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ فنانسنگ لاگت کا 70 فیصد حصہ حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ڈی جی فوڈ، ایگریکٹر اور متعلقہ بینک کے مابین سہ فریقی معاہدہ کیا جائے گا۔ منتخب سٹیک ہولڈرز کو سرکاری گودام بلا معاوضہ فراہم کیے جائیں گے، جس سے ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ کسانوں کو گندم فروخت کرتے وقت 3500 روپے فی من کا سو فیصد معاوضہ موقع پر ہی ادا کیا جائے گا، جس سے کسانوں کو مالی تحفظ اور فوری ریلیف ملے گا۔
ماہرین کے مطابق نئی گندم پالیسی سے کسانوں کا اعتماد بحال ہوگا، مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور مستقبل میں آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔









