90

پاکستان کی معدنی دولت پر مبنی معاشی بحالی کی نئی حکمت عملی

پاکستان نے اپنی معیشت کو نئی سمت دینے کے لیے کھربوں ڈالر مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کو اسٹریٹجک ترقی کا محور بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عالمی جریدے The National Interest میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق حکومت پاکستان معدنی شعبے میں تاریخی اصلاحات کر رہی ہے تاکہ اسے عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

مضمون میں بتایا گیا ہے کہ شفاف پالیسیوں، جدید ریگولیٹری فریم ورک اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو اہم معدنیات کا ایک اسٹریٹجک عالمی مرکز بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

اسی سلسلے میں اپریل 2026 میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (PMIF26) کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معدنی معیشت میں سرمایہ کاری کے مواقع سے روشناس کرانا ہے۔

دنیا کے بڑے کاپر اور گولڈ منصوبوں میں شمار ہونے والا ریکوڈک منصوبہ 5.9 ارب ٹن معدنی ذخائر رکھتا ہے، جو اربوں ڈالر کی آمدنی اور ہزاروں براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

مضمون کے مطابق پاکستان کے قیمتی پتھروں کے ذخائر کی مجموعی مالیت تقریباً 450 ارب ڈالر ہے، مگر اس وقت سالانہ برآمدات محض 5.8 ملین ڈالر تک محدود ہیں، جو اس شعبے میں موجود بے پناہ امکانات کو ظاہر کرتی ہیں۔

حکومت نے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے پہلی قومی جیم اسٹون پالیسی متعارف کرائی ہے، جس میں جدید سرٹیفیکیشن، ویلیو ایڈیشن، مقامی صنعتوں کے فروغ اور نوجوانوں کی کاروباری شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں جیم اسٹون برآمدات کو 1 بلین ڈالر تک بڑھایا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب زمینی عناصر کی عالمی سپلائی چین میں شامل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ معدنی اصلاحات سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق معدنی اور جیم اسٹون سیکٹر کی ترقی سے آئندہ 10 برسوں میں سالانہ 5 سے 7 بلین ڈالر تک جی ڈی پی میں اضافہ ممکن ہے، جبکہ ہزاروں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مجموعی طور پر پاکستان خود کو عالمی معدنی منڈی میں ایک ذمہ دار، شفاف اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر منوانے کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔