85

آئی پی ایل میں سیاست کی مداخلت کا معاملہ، بھارتی کرکٹ بورڈ پر تنقید

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) پر ایک بار پھر کھیل میں سیاست کی مداخلت کرنے کے الزامات عائد ہوئے ہیں، جب کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیشی فاسٹ بالر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل اسکواڈ سے نکالنے کا حکم دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بی سی سی آئی کے حکم پر مستفیض الرحمان کو ریلز کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

فاسٹ بالر کو اسکواڈ میں شامل کرنے پر بھارتی سیاسی جماعت شیوسینا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا، اور شاہ رخ خان کو کھلی دھمکیاں دی گئیں۔ اس کے علاوہ، بی جے پی کے ایک رہنما نے مستفیض الرحمان کے انتخاب پر شاہ رخ خان کو غدار تک قرار دے دیا، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔

کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل نیلامی میں 9 کروڑ 20 لاکھ روپے کی خطیر رقم میں خریدا تھا، مگر سیاسی دباؤ اور تنازع کے باعث کھلاڑی کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے کرکٹ حلقوں میں آئی پی ایل کی غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کھیل کو سیاست سے پاک رکھنا ضروری ہے، مگر اس حالیہ واقعے نے اس کے برعکس تصویر پیش کی ہے، جس میں کھیل کے بجائے سیاست کا غلبہ نظر آتا ہے۔