120

بہتر روزگار: پاکستان میں انسانی سرمائے کا ریکارڈ اخراج: 2025 میں بھی لاکھوں پاکستانی بیرون ملک منتقل

دوہزارپچیس کے اختتام پر پاکستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے روانگی لاؤنجز میں بڑھتی چہل پہل انسانی سرمائے کے وسیع اخراج کا عندیہ دے رہی ہے۔ سال بھر میں صرف خلیجی ممالک کے لیے نہیں بلکہ اعلیٰ مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد اور ڈیجیٹل کارکن بھی بیرونِ ملک کی طرف روانہ ہوئے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 7 لاکھ 27 ہزار 381 پاکستانیوں نے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 2025 میں نومبر تک 6 لاکھ 87 ہزار 246 افراد نے ملک چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ دو برسوں میں مجموعی اخراج 15 لاکھ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

خصوصی طور پر نرسوں کی ہجرت میں 2011 سے 2024 کے دوران 2,144 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، اور 2025 میں بھی یہ رجحان جاری رہا۔ تاہم آئی ٹی اور دیگر اعلیٰ مہارت والے پروفیشنلز میں ہجرت میں کمی دیکھی گئی، مگر غیر مرئی مہاجرین، یعنی وہ ڈیجیٹل پروفیشنلز جو عالمی کیریئر کے لیے پاکستان چھوڑ رہے ہیں، سامنے آئے ہیں۔

سائی گلوبل کے سی ای او ڈاکٹر نومان احمد سعید کا کہنا ہے کہ معاشی عدم استحکام، مہنگائی، سیاسی بے یقینی، کمزور حکمرانی اور محدود مواقع کی وجہ سے ہنر مند افراد بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آئی ٹی اور ہنر مند کارکنوں کو اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتے ہوئے ٹیکنالوجی، ڈیپ ٹیک اور ڈیجیٹل تحقیق و ترقی میں واضح کیریئر راستے فراہم کیے جائیں۔

مالی اثرات کی بات کی جائے تو نومبر 2025 تک ترسیلاتِ زر 3.2 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو سال بہ سال 9.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں، لیکن یہ وقتی مالی سہارا ہے اور جدت کے لیے درکار فکری سرمائے کی جگہ نہیں لے سکتا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے مطابق 2025 میں پاکستانی ہوائی اڈوں سے 66 ہزار 154 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا، جو 2024 میں 35 ہزار تھے، جس سے ریاستی نگرانی اور ضابطہ جاتی ردعمل میں بھی شدت آئی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان ایک “برین ڈرین اکانومی” کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں ملک کی بقا اور ترقی سب سے زیادہ ضرورت رکھنے والے افراد کی برآمد پر منحصر ہو رہی ہے، اور ترسیلاتِ زر وقتی فائدہ فراہم کر سکتی ہیں مگر ملکی فکری اور علمی مرکز کی کمی کو پورا نہیں کر سکتیں۔