102

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں آسمان پر، پاکستانی سرمایہ کار متحرک

عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد پاکستان میں بھی عام شہریوں اور سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر سونے کی جانب مبذول ہو گئی ہے۔ مہنگائی، روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور عالمی سیاسی بے یقینی کے ماحول میں سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ چکی ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں تشویش کے ساتھ ساتھ دلچسپی بھی بڑھا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی شرحِ سود میں ممکنہ کمی، جغرافیائی سیاسی تنازعات، مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سونے کی خریداری اور ڈالر سے دوری کا رجحان اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

پاکستان میں سونے میں سرمایہ کاری کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ سب سے زیادہ مقبول طریقہ فزیکل گولڈ یعنی سونے کے بسکٹ، بار یا سکے خریدنا ہے، جو صرافہ بازاروں اور مستند جیولرز سے دستیاب ہوتے ہیں۔ ماہرین واضح کرتے ہیں کہ خریداری کے وقت 24 قیراط خالص سونا اور مستند رسید کا حصول نہایت ضروری ہے۔

گولڈ زیورات کی خریداری بھی ایک عام طریقہ ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مزدوری اور کٹوتی کے باعث زیورات میں فوری منافع کم ہو سکتا ہے، اس لیے یہ سرمایہ کاری زیادہ تر طویل المدتی یا ذاتی استعمال کے لیے بہتر سمجھی جاتی ہے۔

بین الاقوامی منڈی میں سرمایہ کار گولڈ ای ٹی ایف (ETF) کے ذریعے بھی سونے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، تاہم پاکستان میں یہ سہولت محدود ہے۔ بعض پاکستانی سرمایہ کار بیرونِ ملک بروکریج اکاؤنٹس کے ذریعے گولڈ فنڈز یا فیوچر مارکیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں، لیکن اس کے لیے مالی آگاہی اور خطرات کو سمجھنا ضروری ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت کا براہِ راست تعلق ڈالر کی قدر، عالمی سیاسی صورتحال اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں سے ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں سونا ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت تمام رقم ایک ہی وقت میں لگانے کے بجائے مرحلہ وار خریداری کی جائے اور اسے قلیل مدتی ٹریڈنگ کے بجائے طویل المدتی سرمایہ کاری کے طور پر اپنایا جائے، خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے جو اپنی بچت کو مہنگائی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔