88

حکومت نے آئی ایم ایف قرض پروگرام پر عمل درآمد کے لیے اہم یقین دہانیاں دے دیں

حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض پروگرام پر مکمل عمل درآمد کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کو اہم یقین دہانیاں کرا دی ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق وفاق اور صوبے پروگرام کی تمام شرائط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں گے اور صوبائی حکومتیں پروگرام کے خلاف کوئی پالیسی اقدام نہیں کریں گی۔

دستاویز کے مطابق پروگرام پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی فیصلے سے قبل آئی ایم ایف سے مشاورت لازمی ہوگی، جبکہ صوبے وفاقی وزارت خزانہ کے ذریعے آئی ایم ایف سے رابطہ کریں گے اور بروقت درست معاشی ڈیٹا فراہم کیا جائے گا۔ پروگرام کی رہنمائی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کے اصولوں کے مطابق کی جائے گی۔

وزارت خزانہ کے مطابق نیشنل فسکل پیکٹ کے تحت اخراجات صوبوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں اور اہداف کے حصول کے لیے ضرورت پڑنے پر اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔ ایف بی آر اور صوبوں کے درمیان ٹیکس ڈیٹا کے تبادلے کا نظام مئی 2026 تک فعال کرنے کا ہدف ہے۔

صوبوں نے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کے لیے جامع اصلاحاتی منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن میں ٹیکس چوری روکنے اور نظام بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ محدود منفی فہرست کے سوا تمام خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس لاگو ہوگا، اور جی ایس ٹی قوانین اور کوڈنگ کو تمام صوبوں میں ہم آہنگ کیا جائے گا۔

مزید برآں، وفاقی حکومت نے رائٹ سائزنگ اقدامات پر صوبوں سے مشاورت جاری رکھی ہے اور معاشی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ این ایف سی وفاقی اور صوبائی مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔