بھارت کی انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کی مجموعی مالیت میں اس سال نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے مطابق لیگ کی قدر 20 فیصد گھٹ کر 9.6 ارب ڈالر ہو گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ مالیت 12 ارب ڈالر تھی۔
برانڈ فنانس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی پاک–بھارت کشیدگی اور میگا پلیئر نیلامی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے آئی پی ایل کی قدر پر منفی اثر ڈالا۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث بی سی سی آئی نے میچز، بشمول پلے آف، ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیے تھے۔ 2020 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ آئی پی ایل کی مالیت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ڈی اینڈ پی ایڈوائزری کی اکتوبر رپورٹ کے مطابق، آئی پی ایل کی مالیت گزشتہ دو برس سے مسلسل کم ہو رہی ہے: 2023 میں 11.2 ارب ڈالر، 2024 میں 9.9 ارب ڈالر اور 2025 میں 8.8 ارب ڈالر رہی۔ رپورٹ میں میڈیا انڈسٹری کے انضمام اور حکومتی پابندیوں کو لیگ کی ترقی سست کرنے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
فرینچائز ٹیموں کی ویلیو میں بھی کمی دیکھی گئی ہے:
گجرات ٹائٹنز واحد ٹیم رہی جس نے 2 فیصد اضافہ کر کے 70 ملین ڈالر کی برانڈ ویلیو حاصل کی۔
ممبئی انڈینز کی ویلیو 9 فیصد کم ہو کر 108 ملین ڈالر رہی۔
رائل چیلنجرز بنگلورو 10 فیصد کمی کے بعد 105 ملین ڈالر کی مالیت پر آئے، حالانکہ ٹیم نے سیزن میں اپنا پہلا آئی پی ایل ٹائٹل جیتا۔
چنئی سپر کنگز کی ویلیو 24 فیصد کمی کے ساتھ 93 ملین ڈالر رہی۔
کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی مالیت 33 فیصد کم ہو کر 73 ملین ڈالر رہی۔
پنجاب کنگز 66 ملین، لکھنؤ سپر جائنٹس 59 ملین اور دہلی کیپیٹلز 59 ملین ڈالر پر بند ہوئے۔
سن رائزرز حیدرآباد 34 فیصد کمی کے بعد 56 ملین، جبکہ راجستھان رائلز 35 فیصد کمی کے بعد 53 ملین ڈالر پر ریکارڈ کیے گئے۔









