151

50 روز بعد طورخم بارڈر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کھلنے کا امکان

سرحدی کشیدگی کے بعد 50 روز تک بند رہنے والا طورخم بارڈر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آج کھلنے کا امکان ہے۔ بندش کے دوران دونوں اطراف میں کارگو گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور امپورٹ، ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے ہزاروں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

کسٹم ذرائع کے مطابق پاکستان افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے جبکہ افغانستان سے کوئلہ اور خشک و تازہ پھل درآمد کیے جاتے ہیں۔ طورخم بارڈر سے یومیہ اوسطاً 85 کروڑ روپے کی دوطرفہ تجارت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ بارڈر کی بندش کے دوران افغانستان کو سات ہفتوں میں اربوں روپے کا نقصان ہوا، اور بارڈر کھلنے سے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔