103

کمپٹیشن کمیشن کی سفارش: پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی قائم کی جائے

کمپٹیشن کمیشن نے اپنی تازہ اسسٹمنٹ اسٹڈی میں پاکستان کی غیر دستاویزی اور غیر شفاف سونے کی مارکیٹ کو دستاویزی بنانے کے لیے جامع اتھارٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دی ہے۔

کمیشن کے مطابق پاکستان میں سالانہ 60 سے 90 ٹن تک سونے کی کھپت ہوتی ہے، جس میں 90 فیصد سے زیادہ غیر رسمی چینلز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مالی سال 2024 میں 17 ملین ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا، جبکہ موجودہ غیر دستاویزی مارکیٹ میں زیادہ تر لین دین نقد ہوتا ہے اور چند تاجروں کے گروہ قیمتوں اور سپلائی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ ملک میں سونے کے نرخ مقرر کرنے کا کوئی باقاعدہ میکانزم موجود نہیں، مختلف شہروں کی ایسوسی ایشنیں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں طے کرتی ہیں، اور سونے کی ریفائننگ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہال مارکنگ کی ناکافی سہولیات ملاوٹ کے مسائل کو جنم دیتی ہیں، اور قابلِ اعتماد ڈیٹا کی عدم موجودگی مؤثر پالیسی سازی میں رکاوٹ ہے۔

اس تناظر میں کمیشن نے سفارش کی کہ پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی قائم کی جائے، جو سونے کی لائسنسنگ، درآمدات اور اینٹی منی لانڈرنگ ریگولیشنز کے نفاذ کے لیے کام کرے اور مارکیٹ کو منظم کرے۔

کمیشن نے اس منصوبے کو "ریکو ڈیک گولڈ پراجیکٹ" کا نام دیا ہے، جس کے 37 سالہ دورانیے میں تقریباً 74 ارب ڈالر مالیت کا سونا پیدا کرنے کی صلاحیت ہونے کا امکان ہے۔