پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں گاڑیوں کی اسمبلی کٹس (SKD/CKD) کی درآمدات میں 123 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مقامی آٹو مارکیٹ میں ایک بار پھر نمایاں سرگرمی دکھائی دے رہی ہے۔
ملک میں نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ان کی تیاری کے لیے درکار آٹو پارٹس کی مانگ میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین بڑی تعداد میں استعمال شدہ اور لوکل تیار شدہ دونوں گاڑیوں میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے مطابق، مقامی کار ساز اداروں کی جانب سے گاڑیوں کی اسمبلی کٹس کی درآمدات چار ماہ میں 62 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 123 فیصد زیادہ ہیں۔
اسی عرصے کے دوران مکمل تیار شدہ (CBU) نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات بھی 31 فیصد بڑھ کر 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں۔
دوسری جانب، پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) نے پاکستان آٹو پارٹس شو (PAPS) 2025 کے دوران ایک بھرپور مہم چلائی، جس میں خبردار کیا گیا کہ اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات جاری رہیں تو 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، 1,200 فیکٹریاں اور 25 لاکھ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد ایک طرح سے جرم کی مانند ہے، کیونکہ ہنڈی، حوالہ اور غیر رجسٹرڈ رقوم ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
مقامی کار ساز کمپنیوں نے بھی اسی تشویش کا اظہار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر بڑھ کر 25 سے 30 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو چند سال قبل 10 فیصد سے بھی کم تھا۔









