91

متحدہ عرب امارات نے ڈیجیٹل درہم کو قانونی ادائیگی کا درجہ دے دیا

یو اے ای نے فیڈرل ڈیکری لا نمبر 6، 2025 کے تحت ڈیجیٹل درہم کو کیش کے برابر قانونی حیثیت دے دی ہے، یعنی اب یہ کسی بھی مالی لین دین میں قابل قبول ہوگا۔

سینٹرل بینک آف دی یو اے ای کو ڈیجیٹل کرنسی کے پروگرام کے لیے مکمل قانونی اختیار حاصل ہے اور وہ قواعد و ضوابط تیار کر رہا ہے کہ ڈیجیٹل درہم کس طرح جاری، گردش اور وصول کیا جائے گا۔

حال ہی میں یو اے ای کی وزارتِ مالیات اور دبئی کے محکمہ مالیات نے ڈیجیٹل درہم کے ذریعے پہلا سرکاری مالیاتی لین دین مکمل کیا، جو پائلٹ مرحلے کا حصہ تھا۔

ڈیجیٹل درہم کے ذریعے تنخواہیں، خریداری اور ریمیٹنس بھی کی جا سکیں گی، بشرطیکہ سینٹرل بینک کے مزید ضوابط نافذ ہوں۔

آجر، کاروباری ادارے اور پیسوں کے تبادلے کی خدمات دینے والے پلیٹ فارمز کو ڈیجیٹل درہم کے نظام سے جوڑنا ضروری ہوگا، اور بین الاقوامی مالی لین دین کے لیے دیگر ممالک کے حکام کے ساتھ معاہدے کیے جائیں گے۔

نظام میں انٹرمیڈیئیٹڈ CBDC ماڈل استعمال ہوگا، ہائبرڈ والٹس کے ذریعے صارفین اکاؤنٹ شناخت کے ساتھ لین دین کریں گے اور تمام لین دین ڈسٹریبیوٹڈ لیجر پر ریکارڈ ہوں گے۔

قانون کے تحت بینک، انشورنس اور فِن ٹیک ادارے سینٹرل بینک کے تحت ریگولیٹ ہوں گے، اور خلاف ورزی پر ایک ارب درہم تک جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔

یہ اقدامات یو اے ای کی معیشت کو جدید اور مستحکم بنانے کے ساتھ عالمی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کو فروغ دیں گے۔