پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے حکومت کے عدم تعاون پر سوشل میڈیا پر شدید ناراضگی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
شہروز کاشف Shehroze Kashif نے پاکستان کا پرچم دنیا کے تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند پہاڑوں پر لہرا کر ایک تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ہے،وہ تاحال حکومتی انعام کے منتظر ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے وعدے تو کیے گئے تھے مگر عملی طور پر کوئی مدد نہیں ملی۔ خراب حالات کی وجہ سے انہیں اپنی قیمتی املاک کو فروخت کرنا پڑا، وہ مالی قرضوں کا بھی شکار ہیں۔
معروف پاکستانی کوہ پیما کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ان کی حمایت میں آوازیں اٹھ رہی ہیں، انہوں نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مجھے کیش پرائز دینے کا کئی مرتبہ وعدہ کیا لیکن سب بھول گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنی زمین اور کاربھی بیچ ڈالی لیکن کوہ پیمائی کی وجہ سے اب مقروض ہو چکا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ملک کا نام روشن کرنے کیلئے میرے تقریباً چار کروڑ روپے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری کمر کا خطرناک آپریشن ہوا، میری کمر میں راڈز ہیں جس وجہ سے مجھے چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی نے میرے میڈیکل بلز کی ذمہ داری نہیں اٹھائی، انہوں نے کہا کہ کوئی اس شخص کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے جس نے 8 ہزار سے بلند 14 چوٹیاں سر کر رکھی ہوں۔
پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے کہا کہ اگر ایسا ہی رویہ رہا تو میں پھر بیرون ملک اپنے لئے کچھ سوچنے پر مجبور ہوں گا۔









