11

وزیراعظم شہباز شریف سے شامی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف سے شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور شام کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو سیاسی، دفاعی، تجارتی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان گولان کی پہاڑیوں کے معاملے پر بھی شام کے مؤقف کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوامی روابط کو فروغ ملے گا اور پاکستان سے شام جانے والے زائرین کو بھی سہولت حاصل ہوگی۔

وزیراعظم نے شامی صدر احمد الشرع کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔

ملاقات میں شامی وزیر خارجہ نے صدر احمد الشرع کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور شام کی سیاسی صورتحال اور تعمیر نو کی کوششوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔

اسعد حسن الشیبانی نے شام کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی شامی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں فلسطین، گولان کی پہاڑیوں، افغانستان اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ شامی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور امریکا ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

پریس کانفرنس میں شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور شام کے تعلقات تاریخی ہیں اور دونوں ممالک انہیں نئی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سے عوام کے رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے راستے کھولے جا رہے ہیں۔

شامی وزیر خارجہ نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والے کسی بھی دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام لبنان کے استحکام کی حمایت کرتا ہے اور ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔